ملیر جیل میں خودکشی کرنے والے ماہی گیر کی لاش بھارتی حکام کے حوالے
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
لاہور:
ملیر جیل کراچی میں خود کشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے والے بھارتی ماہی گیر کی لاش لاہور کے واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کردی گئی، ماہی گیر کی لاش ایدھی فاؤنڈیشن کے ذریعے کراچی سے واہگہ بارڈر پہنچائی گئی۔
بھارتی ریاست اترپردیش سے تعلق رکھنے والے 48 سالہ ماہی گیر گیراو گزشتہ 4 سال سے کراچی کی ملیر جیل میں قید تھا، جنہیں سمندری حدود کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق بھارتی ماہی گیر نے ملیر جیل میں خودکشی کرلی تھی اور 15 اپریل کو کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر(جے پی ایم سی) میں اس کا پوسٹ مارٹم کرکے لاش ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کی گئی تھی۔
متوفی کی لاش کراچی سے بذریعہ ہوائی جہاز لاہور پہنچائی گئی اور پھر ائیرپورٹ سے ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولیس میں واہگہ بارڈر پہنچائی گئی جہاں میت بھارتی حکام کے حوالے کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایدھی فاؤنڈیشن ملیر جیل ماہی گیر کے حوالے کی لاش
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
ویب ڈیسک : آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کے شہر میرپور اور اس کےگردونواح میں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسزبحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس حوالے کچھ دیر قبل چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ اطلاعات ہیں کہ میرپور آزاد کشمیرمیں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل رابطہ جلد بحال کردیا جائےگا۔
I’m grateful to the AJK PPP for their efforts & the election commission of AJK for their intervention. I’m hearing internet and digital connectivity will be restored in Mirpur AJK soon. I’m hopeful our requests for Muzaffrabad and other areas are also accepted as soon as…
— Bilawal Bhutto Zardari (@BBhuttoZardari) July 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ امید ہے مظفرآباد اور دیگرعلاقوں کے حوالے سے ہماری درخواستیں بھی جلد منظور کرلی جائیں گی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
واضح رہے میرپور آزادکشمیر میں گزشتہ 45 دن سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔
Ansa Awais Content Writer