اسلام آباد:

تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی کا کہنا ہے کہ اب علی امین گنڈاپور جو ہے تیرے کوچے سے ہم نکلے بڑے بے آبرو ہو کر تو کے پی سے تو ان سے اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں، ان سے کہا گیا ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا عہدہ ہے آپ وزارت اعلیٰ چلائیں، یہی بات ان کے لیڈر جیل سے کہی ہے اور یہی بات پارٹی کے تمام چھوٹے بڑے لوگوں کا ان سے تقاضا ہے.

 

ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا کرائسس یہ ہے کہ وہ بالکل کلیو لیس ہے. 

تجزیہ کار اطہر کاظمی نے کہا کہ پارٹی کے ساتھ نہیں، پنجابیوں کے ساتھ اور پنجاب کے صوبے میں پنجاب کے ساتھ کیا ہوا ہے یہ بڑا سوال ہے،باقی دیکھیں آپ جو سیاست کرتے ہیں وہ آئین اور قانون کے مطابق ہوتی ہے آپ کی سیاست، جب آپ آئینی حقوق ہی ان کو دینے کو تیار نہیں ہیں، تحریک انصاف کی سیاست میں بہت سارے مسائل ہیں، لیکن یہاں پہ ان کی عوامی سپورٹ کوئی ایشو نہیں ہے، آپ ان کی سیاست پر تنقید کر سکتے ہیں لیکن عوام کے اندر ان کی جو سپورٹ ہے اس میں اضافہ ہی ہواکمی نہیں آئی ہے.

دفاعی تجزیہ کار ریٹائرڈ میجر جنرل زاہد محمود نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک بڑے عجیب سے حالات سے گزر رہا ہے، ان فورچیونیٹلی پاسٹ میں جو پالیٹکس دیکھتے آئے چیزیں دیکھتے آئے اس وقت اتنے کلیکٹیو فیکٹرز اس کے اوپر امپلیمینٹیشن ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی، ابھی خاص طور پر جو سوشل میڈیا ہے اس کی وجہ سے چیزوں میں بہت بگاڑ پیدا ہوا ہے، ٹو بھی ویری آنسٹ، پولیٹیکل پراسیسز کے بیچ میں بھی بگاڑ آیا اور ان کی ہنڈلنگ میں بھی بگاڑ آیا، ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ 9 مئی از ان ایکسپٹیبل،9 مئی ایک بہت ہی بھیانک ڈے ہے جی اور 9 مئی نے بہت ڈیمج بھی کیا ہے، آئی تھنک کہ اس کو انڈر اسٹینڈ کرنا چاہیے تھا۔

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

ضرورت ہوئی تو مزید قانون سازی کریں گے ،وزیر قانون

ضرورت کے تحت کل اگر کوئی چیز کرنا پڑی تو تمام اتحادی جماعتیں و پارلیمنٹ بیٹھ کر سوچیں گی
فوجی تنصیبات پر حملہ آور ہوں گے تو آپ کو پھولوں کے ہار تو نہیں پہنائے جائیں گے، گفتگو

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 26ویں ترمیم اسٹرکچرل ریفارم ہے جو نظام کی بہتری کے لیے کی گئی،علم غیب کسی کے پاس نہیں ہے ، ضرورت کے تحت کل کو اگر کوئی چیز کرنا پڑی تو تمام اتحادی جماعتیں و پارلیمنٹ بیٹھ کر سوچیں گی۔پنجاب بار کونسل میں دو روزہ بین الاقوامی مصالحت و ثالثی ٹریننگ کا آغاز ہوگیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 15سال پہلے محمد احمد نعیم صاحب سے گزارش کی تھی کہ سیکھنے کے عمل میں ہمارا ساتھ دیں۔ان کا کہنا تھا کہ لاہور کا شکریہ کہ جو رسپانس ہے وہ خوش آئند ہے ، اے ڈے آر کی مصالحت کی بات ہو، کہا جائے کہ یہ جوڈیشل سسٹم کا حصہ نہیں یہ غلط ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایڈووکیسی کی ایک نئی شکل ہے ، حکومت پاکستان نے وقت کی اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے آئی میک کا سنگ بنیاد رکھا، میرے پاس بہت وائبرنٹ ٹیم ہے ، بنیادی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہمارا کام ہے باقی آپ کا کام ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنے آپ کو عالمی کمیونٹی میں رہنے کے لیے اور اپنا رول پلے کرنے کے لیے بل تیار کر لیا ہے ، صوبائی اسمبلیوں کا شکرگزار ہوں جنہوں نے قراردادیں پیش کیں، 3 لاکھ مقدمات ہائیکورٹس میں پینڈنگ ہیں، سپریم کورٹ میں بھی ایسے ہزارہا کیس ہیں۔وزیر قانون نے کہا کہ جو مقدمات سپریم کورٹ میں نہیں آنے چاہئیں، ان کے لیے الگ سے بینچ اور ٹائم مختص کر دیا گیا ہے ، جو نئے قانون میں شقیں ہیں، اس میں آپ کو زیادہ روم ملے گا، وکلا کا رول کم ہونے کے بجائے بڑھا ہے ، مستقبل کی وکالت کا آپ کو حصہ ہونا ہے ۔اعظم نذیر نے کہا کہ نئی چیزوں کو نئے آئیڈیا کو لے کر چلیں گے تو بلندیوں تک جائیں گے ، علم کا قانون کا یہ ایک اور آسمان ہے جس پر ہمیں پرواز کرنا ہے ، امید کرتا ہوں کہ اگلے دو روز پوری دلچسپی کے ساتھ ہماری ٹیم کے ساتھ کام کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کاوشیں پاکستان کی عوام کے لیے ہیں، ہمیں سب سے زیادہ عوام کی آسانی کرنی ہے ۔بعد ازاں اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری خواہش ہے کہ کراچی کی طرح لاہور میں بھی ایک ہی جگہ عدالتیں ہوں، اس کا سب سے زیادہ فائدہ بار اور پھر سائلین کو ہے ، جوڈیشل افسران کے لیے بھی اس میں سہولت ہے ۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے یہ پلان حکومت پنجاب کو بھیجا ہے ، وزیر اعلی پنجاب مریم نواز اس کے لیئے بالکل تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چھبسویں ترمیم ایک اسٹرکچرل ریفارم ہے جو کہ نظام کی بہتری کے لیے کی گئی ہے ، میرا نہیں خیال کہ چھبسویں ترمیم کے بعد کسی ترمیم کی ضرورت ہے ۔وزیر قانون نے کہا کہ علم غیب کسی کے پاس نہیں، ضرورت کے تحت کل کو اگر کوئی چیز کرنا پڑی تو تمام اتحادی جماعتیں و پارلیمنٹ بیٹھ کر سوچیں گی۔اعظم نذیر کا کہنا تھا کہ بار کونسلز کے انتخابات کو صاف شفاف رکھنے کے لیئے ووٹرز کی ڈیجیٹلائزیشن کریں گے ، سٹیمرز، بینرز، کھانوں اور زائد خرچہ پر پہلے بھی پابندی ہے لیکن اب یہ قانون کا حصہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ آپ اگر فوجی تنصیبات پر حملہ آور ہوں گے ، آپ اگر سرکاری پراپرٹی اور پولیس وینز جلائیں گے تو آپ کو پھولوں کے ہار تو نہیں پہنائے جائیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت جو پیسے ہائیکورٹ بارز کو دیتی ہے وہ پیسے ہم نے پچھلے اور اس سے پچھلے سال لاہور ہائیکورٹ بار کو دیے تھے ، اگر خیبر پختونخواہ حکومت اپنے صوبے پر خرچ کرے اور وہاں کے عدالتی نظام کو بہتر کرے تو زیادہ خوشی ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • کرکٹ میں بھی سیاست، پہلگام حملے کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ نے پاکستان کو کیا پیغام دیا؟
  • کھیل میں سیاست؛ پہلگام واقعہ! “کرکٹ نہیں کھیلیں گے”
  • کھیل میں سیاست؛ پہلگام واقعہ! کرکٹ نہیں کھیلیں گے
  • بھارت اس ریجن کے اندر ایک غنڈے کی طرح برتاؤ کرتا ہے
  • آئی پی ایل میں معروف کمنٹیٹرز کو تنقیدی تجزیہ پیش کرنا مہنگا پڑ گیا
  • پہلگام واقعے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں، دہشتگردی کو کہیں بھی سپورٹ نہیں کرتے، وزیر دفاع خواجہ آصف
  • پانی چاروں صوبوں کا ہے، اس کے حامی اور مخالف بھی ہیں
  • امریکی وفد کی عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، سلمان اکرم راجہ
  • ضرورت ہوئی تو مزید قانون سازی کریں گے ،وزیر قانون
  • عمران خان کی 2 بہنوں کو ملاقات کی اجازت مل گئی، اڈیالہ جیل کے اندر روانہ