بلوچستان کی قاتل شاہراہ جو سالانہ سینکڑوں زندگیاں نگل لیتی ہے
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
پاکستان کے جنوب مغرب میں واقع صوبہ بلوچستان اکثر دہشتگردی، دھماکوں اور ٹارگیٹ کیلنگ کے واقعات کی وجہ سے خبروں میں رہتا ہے لیکن ان دنوں اس کی وجہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کا اعلان جس کے مطابق پیٹرول کی قیمت 10 روپے کم کرنے کی بجائے اس کا فائدہ بلوچستان کی عوام کو دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ دوگنا کردیا گیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم کے اعلان کے مطابق چمن، کوئٹہ، خضدار اور کراچی قومی شاہراہ این 25 کو 2 رویہ کرنے کے ساتھ ساتھ کچھی کینال منصوبہ کو اس رقم سے مکمل کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا بحثوزیراعظم پاکستان شہباز شریف کہ اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ ایک جانب بلوچستان میں بسنے والے لوگوں کا ماننا ہے کہ 7 دہائیوں بعد بالآخر حکومت نے بلوچستان پر کچھ خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک خوش آئند عمل ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں ترقیاتی اقدامات سے جہاں بسنے والے عوام کی احساس محرومی کم ہوگا، وہیں دیگر صوبہ میں بسنے والی عوام کا مؤقف ہے کہ ملک بھر کا حق صرف ایک صوبے کو دینا رست اقدام نہیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چمن کو کراچی سے ملانے والی قومی شاہراہ این 25 کو 2 رویہ کرنا کیوں ضروری ہے۔ دراصل چمن کو کراچی سے ملانے والی یہ سڑک آئے روز کئی قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے اپنا دھرنا کیوں ختم کیا ہے؟
میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹر ریسکیو 1122 کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس مجموعی طور پر صوبے میں ٹریفک حادثات کے 23257 واقعات رونما ہوئے جس میں 31854 افراد زخمی جبکہ 416 افراد جان بحق ہوئے۔
رواں برس بھی بلوچستان کی قاتل قومی شاہراہوں پر حادثہ کا سلسلہ تھم نہ سکا رواں مجموعی طور پر اب تک 2074 ٹریفک حادثات رونما ہو چکے ہیں جن میں 2724 افراد زخمی جبکہ 48 افراد جانبحق ہو چکے ہیں۔
رواں برس ہونے والے واقعات میں قومی شاہراہ این 25 پر 890 ٹریفک حادثات رونما ہو چکے ہیں جبکہ ان حادثات میں 1229 افراد زخمی جبکہ 25 افراد جانبحق ہوئے ہیں۔
حادثات کی وجوہاتکوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر آئے روز ہونے والے حادثات ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ ڈائریکٹر آپریشن میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹر ڈاکٹر امیر بخش کے مطابق اس قومی شاہراہ پر حادثات ہونے کی سب سے بڑی وجہ سڑک کا 2 رویہ نہ ہونا ہے۔ اس کے علاوہ اوور اسپیڈنگ اور لوکل گاڑیاں چلانے والے ڈرائیورز کی جانب سے اوور ٹائم حادثات کا باعث بنتے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں حکومت کی جانب سے قومی شاہراہ این 25 کو 2 رویا کرنے کا فیصلہ نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ قومی شاہراہ کے جلد تعمیر ہونے سے حادثات میں واضح کمی واقع ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان چمن خضدار قومی شاہراہ قومی شاہراہ این 25 کوئٹہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان قومی شاہراہ قومی شاہراہ این 25 کوئٹہ قومی شاہراہ این 25 کو کے مطابق
پڑھیں:
وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔منگل کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔(جاری ہے)
وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناں کا اظہار کیا۔