پی ایس ایل کے دوران اسٹیڈیم خالی کیوں ہیں؟ محمد حفیظ نے وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ کے دسویں ایڈیشن کے میچز اس وقت راولپنڈی اور کراچی میں جاری ہیں۔ لیکن گزشتہ سالوں کی نسبت اس سال عوام میں وہ جوش و خروش دیکھنے کو نہیں ملا۔
پی ایس ایل 10 کے اب تک ہونے والے میچز میں ایک بھی ہاؤس فل نہیں ہوسکا، پی ایس ایل کے میچوں میں خالی کرسیاں اب ایک معمول بن چکی ہیں جس پرغیر ملکی کھلاڑی بھی بول اٹھے کہ تماشائی کرکٹ کی جان ہوتے ہیں لیکن کراچی میں خالی اسٹیڈیم دیکھ کر مایوسی ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیڈیم جا کر پی ایس ایل کے میچز دیکھیں اور پائیں قیمتی انعامات، پی سی بی کا بڑا اعلان
پی ایس ایل کے دوران اسٹیڈیم خالی ہونے پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی سوال اٹھایا کہ آخر پی ایس ایل میں اسٹیڈیم خالی کیوں ہیں اس کی وجہ کیا ہے جس کا جواب دیتے ہوئے پاکستان کے سابق کپتان محمد حفیظ نے اس کی 3 وجوہات بیان کی ہیں۔
محمد حفیظ نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) اور اے سی سی (ایشیائی کرکٹ کونسل) کے بڑے میچز میں خراب پرفارمس اس کی بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر شائقین پاکستانی کرکٹ ٹیم کی پرفارمنس سے خوش نہیں ہیں۔
Reasons low crowd in PSLX.
1- Pakistan team poor run especially in big events ICC & ACC
2- Surely & rightly fans are not happy
3- Over all experience as fan starting from rout plans, security measures to get to the stadium & so unfriendly experience in grounds https://t.co/zYnqPcIGsk
— Mohammad Hafeez (@MHafeez22) April 16, 2025
سابق کپتان نے پی ایس ایل میچز میں اسٹیڈیم خالی ہونے کی تیسری وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیڈیم تک پہنچنے کے لیے بنائے جانے والے روٹ پلانز، سیکیورٹی انتظامات اور میدان میں غیر دوستانہ تجربہ بھی اس کی وجہ ہے۔
کئی صارفین محمد حفیظ کی بات سے اتفاق کرتے نظر آئے کہ انہوں نے بالکل ٹھیک نشاندہی کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان سپر لیگ پی ایس ایل محمد حفیظ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان سپر لیگ پی ایس ایل محمد حفیظ اسٹیڈیم خالی پی ایس ایل کے محمد حفیظ
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔