اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 18 اپریل 2025ء) اسلام آباد میں دفتر خارجہ اور بنگلہ دیش کے میڈیا کی جانب سے آنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان کی خارجہ سیکرٹری آمنہ بلوچ جمعرات کے روز بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ پہنچی تھیں، جہاں انہوں نے اپنے بنگلہ دیشی ہم منصب جشیم الدین کے ساتھ کئی اہم امور پر بات چیت کی۔

جمعرات کے روز ہی بنگلہ دیش کے ’فارن آفس کنسلٹیشن‘ (ایف او سی) سے بات چیت کے بعد آمنہ بلوچ نے ڈھاکہ انتظامیہ کے اہم مشیر پروفیسر محمد یونس اور خارجہ امور کے مشیر توحید حسین سے بھی ملاقات کی۔

ڈھاکہ اور اسلام آباد کے مابین خارجہ سیکرٹریوں کی سطح کی آخری بات چیت سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے پہلے دور میں سن 2010 میں ہوئی تھی۔

(جاری ہے)

اس کے بعد سے دونوں ممالک کے باہمی سفارتی روابط میں کمی آتی گئی تھی۔ اس پس منظر میں دونوں ممالک کے مابین سفارتی سطح پر سیاسی مذاکرات کا دوبارہ آغاز 15 برس بعد ہوا ہے۔

پاکستان نے اس حوالے سے کیا کہا؟

اس ملاقات کے حوالے سے اسلام آباد میں پاکستانی دفتر خارجہ نے ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا، ’’خارجہ سیکرٹریوں کی سطح کی مشاورت کا چھٹا دور 15 برس کے وقفے کے بعد آج ڈھاکہ میں شروع ہوا اور فریقین کے درمیان خوشگوار ماحول میں مستقبل کی تعمیری پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔

‘‘

اس بیان میں مزید کہا گیا، ’’پاکستان اور بنگلہ دیش کے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر بات چیت ہوئی، جن میں سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات، زراعت، ماحولیات اور تعلیمی شعبے میں تعاون، ثقافتی تبادلے، دفاعی تعلقات نیز عوام کے درمیان رابطوں جیسے امور شامل ہیں۔‘‘

اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے کہا کہ اس ملاقات کے دوران فریقین نے دوطرفہ تعاون کی نئی راہیں تلاش کیں۔

بنگلہ دیش نے اس ملاقات کے بارے میں کیا کہا؟

بنگلہ دیش کے معروف میڈیا ادارے ڈھاکہ ٹریبیون نے اطلاع دی ہے کہ بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کی ڈائریکٹر جنرل عشرت جہاں نے مذاکرات کے لیے آمنہ بلوچ کا خیر مقدم کیا۔

بنگلہ دیش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (بی ایس ایس) نے اطلاع دی ہے کہ ڈھاکہ انتظامیہ کے مشیر پروفیسر محمد یونس نے باہمی تعاون کو فروغ دینے اور تجارت اور کاروباری امکانات کو تلاش کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے آمنہ بلوچ سے کہا، ’’کچھ رکاوٹیں ہیں۔ ہمیں ان پر قابو پانے اور آگے بڑھنے کے طریقے تلاش کرنا ہوں گے۔‘‘

محمد یونس نے کہا، ’’ایک طویل عرصے سے ہم ایک دوسرے کو مس کرتے رہے، کیونکہ ہمارے تعلقات منجمد ہو گئے تھے۔ ہمیں رکاوٹوں کو دور کرنا ہو گا۔‘‘

انہوں نے تجویز پیش کی کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات کو بڑھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں اور ثقافتی پروگراموں کا تبادلہ ضروری ہے۔

ماضی کے مسائل کو تسلیم کرتے ہوئے، آمنہ بلوچ نے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو آپس میں تمام ’’ممکنہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے‘‘ کے طریقے تلاش کرنا چاہییں۔

سن 1971 کے لیے پاکستان سے معافی کا مطالبہ

پاکستانی خارجہ سیکرٹری آمنہ بلوچ نے ڈھاکہ میں امور خارجہ کے مشیر توحید حسین سے بھی ملاقات کی اور سارک کی بحالی سمیت دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات سمیت علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اطلاعات ہیں کہ اس موقع پر بنگلہ دیش نے ’’تاریخی طور پر حل نہ ہونے والے بعض مسائل‘‘ کو اٹھایا اور سن 1971 کے واقعات کے حوالے سے پاکستان سے عوامی سطح پر معافی کا مطالبہ کیا۔

سن 1971 میں سابقہ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش کے طور پر پاکستان سے الگ ہونے کے بعد سے ڈھاکہ پاکستان سے رسمی معافی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ فریقین میں اثاثوں کی واپسی اور بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی وطن واپسی جیسے معاملات کے حوالے سے بھی تنازعہ موجود ہے۔

ڈھاکہ میں مذاکرات کے بعد جشیم الدین نے وزارت خارجہ کے دفتر میں میڈیا کو بات چیت کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے پاکستان کے ساتھ تاریخی غیر حل شدہ مسائل کو بھی اٹھایا، جس میں پاکستانی افواج کی طرف سے سن 1971 کی جنگ آزادی کے دوران ہونے والے مظالم اور زیر التواء مالی دعووں کے لیے باضابطہ عوامی معافی بھی شامل ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’ہم نے کہا کہ یہ تاریخی غیر حل شدہ مسائل کو حل کرنے کا صحیح وقت ہے ۔

۔ ۔ ان مسائل کو باہمی مفادات اور ہمارے تعلقات کی مضبوط بنیاد‘‘ رکھنے کے لیے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

جب ان سے اس پر پاکستان کے رد عمل کے بارے میں پوچھا گیا، تو جشیم الدین نے کہا کہ پاکستان نے ’’یقین دلایا ہے کہ وہ ان اٹھائے گئے معاملات پر‘‘ بات کرتا رہے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی ہم منصب سے بنگلہ دیش میں پھنسے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

انہوں نے کہا، ’’جن لوگوں نے بنگلہ دیش میں رہنے کا انتخاب کیا، انہیں شہریت دے دی گئی ہے۔ کچھ نے پاکستان واپس جانے کا انتخاب کیا۔ اب تک ایسے پھنسے ہوئے 26,941 پاکستانیوں کو وطن واپس بھیجا جا چکا ہے۔ ہمارے اعداد و شمار کے مطابق اب بھی ایسے تقریباً تین لاکھ 24 ہزار 147 افراد 14 اضلاع کے 79 کیمپوں میں مقیم ہیں۔‘‘

شیخ حسینہ کے دور میں کشیدگی

بھارت نواز شیخ حسینہ واجد کے 15 سالہ دور حکومت میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات کافی کشیدہ رہے تھے۔

تاہم گزشتہ سال اگست میں ان کی اقتدار سے برطرفی کے بعد سے دو طرفہ تعلقات میں ڈرامائی حد تک مثبت تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر آخری ملاقات 2010 میں شیخ حسینہ کے پہلے دور حکومت میں ہوئی تھی۔ اور اب آمنہ بلوچ کے دورے کے بعد 22 اپریل کو پاکستانی نائب وزیر اعظم اور ملکی وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ڈھاکہ کے دورے کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔

سیاسی اور معاشی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں ’سرد جنگ‘ کی وجہ سے گزشتہ 15 سالوں میں تجارت، مواصلات اور دیگر شعبوں میں پیش رفت نہ ہو سکی اور اسی لیے اب دونوں ملک باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ بنیادیں تلاش کر رہے ہیں۔

ادارت: مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے خارجہ سیکرٹریوں کی اور بنگلہ دیش کے دونوں ممالک کے میں پاکستان کہ پاکستان پاکستان کے بنگلہ دیشی اسلام آباد پاکستان سے ڈھاکہ میں کے درمیان کا مطالبہ آمنہ بلوچ حوالے سے مسائل کو انہوں نے بات چیت کے دور کے لیے نے کہا کے بعد

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم