محمد یونس کا بنگلہ پاکستان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مذاکرات اور تجارت پر زور
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور تجارتی تعاون کو گہرا کرنے کے لیے دیرینہ چیلنجز پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پاکستانی سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ سے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمنا میں ملاقات کے دوران کیا۔
محمد یونس نے کہا کہ مضبوط تعلقات دونوں جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی امکانات کو کھولنے میں مدد کریں گے۔ ’کچھ رکاوٹیں ہیں، ہمیں ان پر قابو پانے اور آگے بڑھنے کے طریقے تلاش کرنے ہوں گے۔‘
یہ بھی پڑھیں: طویل مدت بعد پاکستانی سیکریٹری خارجہ کا دورہ بنگلہ دیش
آمنہ بلوچ، جو 15 سالوں میں ڈھاکہ کا دورہ کرنے والی پہلی پاکستانی سیکریٹری خارجہ ہیں، نے ماضی کے اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ اپنی مارکیٹوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں۔
’ہمارے پاس اپنے حقوق کے لیے انٹرا مارکیٹ کی بہت بڑی صلاحیت ہے، اور ہمیں اسے استعمال کرنا چاہیے، ہم ہر مرتبہ اس نوعیت کا موقع گنوا نہیں سکتے۔‘
آمنہ بلوچ نے تعلقات کو بحال کرنے کے لیے پائیدار بزنس ٹو بزنس مصروفیات اور اعلیٰ سطح کے تبادلوں کی اہمیت پر زور دیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 15 سال بعد سفارتی بات چیت کا انعقاد
انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا رواں ماہ کے آخر میں متوقع دورہ تعلقات کو مزید فروغ دے گا۔
محمد یونس نے اقوام متحدہ 79ویں جنرل اسمبلی اور قاہرہ میں ڈی 8 سربراہی اجلاس 2024 کے دوران نیویارک میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ نتیجہ خیز ملاقاتوں کو یاد کیا۔
چیف ایڈوائزر نے ثقافتی اور نوجوانوں کے تبادلوں میں اضافے کی وکالت کرتے ہوئے سارک، او آئی سی، اور ڈی 8 فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے علاقائی تعاون کے لیے بنگلہ دیش کے عزم کا اعادہ کیا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: جولائی تحریک کے 31 متاثرین کا پاکستان میں علاج کا فیصلہ
ایس ڈی جی امور کی سینیئر سیکریٹری لامیا مرشد اور بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر سید احمد معروف بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔
رواں برس جنوری میں، دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات میں اس وقت اضافہ ہوا جب پاکستان کے تاجروں کے ایک وفد نے بنگلہ دیشی تاجروں کے ساتھ ڈھاکہ میں ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمنہ بلوچ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس اسحاق ڈار اقوام متحدہ پاکستان پاکستانی وزیر اعظم جنرل اسمبلی سیکریٹری خارجہ شہباز شریف محمد یونس نائب وزیر اعظم نیویارک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آمنہ بلوچ اسحاق ڈار اقوام متحدہ پاکستان پاکستانی وزیر اعظم جنرل اسمبلی سیکریٹری خارجہ شہباز شریف محمد یونس نیویارک سیکریٹری خارجہ پاکستان کے بنگلہ دیش محمد یونس کے لیے
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔