آرمی ایکٹ صرف آرمڈ فورسز کیلئے، سویلین کو لانا ہوتا تو الگ سے ذکر کیا جاتا: جسٹس نعیم
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کے دوران آئینی بنچ نے ریمارکس دیے کہ ملٹری کا قانون آئین سے ٹکراتا ہے۔ عسکری تنصیات پر حملے سکیورٹی کی ناکامی تھی۔ جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بنچ نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کورٹ مارشل آئینی طور پر تسلیم شدہ ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ خواجہ صاحب ایسا نہ ہو نمازیں بخشوانے آئیں اور روزے گلے پڑ جائیں۔ آئین کے تحت دو طرح کی عدالتیں ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ ہیں۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ 9 مئی کے مقدمات میں فوجی عدالتوں کیلئے ملزمان کا تعین کس طرح سے کیا گیا؟۔ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ملزمان کو پک اینڈ چوز نہیں بلکہ جرم کے مطابق دیکھا جاتا ہے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا کہ آرٹیکل 8 کی شق تین کیا ہے؟ کیا عام شہری اس کے زمرے میں آتے ہیں؟ یہاں پر بات صرف آرمڈ فورسز کے لوگوں کو ڈسپلن میں رکھنے کی ہے۔ کہا ملٹری کا قانون آئین سے ٹکراتا ہے۔1973ء کا آئین بڑا مضبوط ہے۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ آرمی ایکٹ صرف آرمڈ فورسز کیلئے ہے۔ اگر اس میں سویلین کولانا ہوتا تو الگ سے ذکر کیا جاتا۔ مارشل لاء کے ادوار میں 1973 کے آئین میں بہت سی چیزیں شامل کی گئیں۔ ترمیم کرکے 1973 کے آئین کو اصل شکل میں واپس لایا گیا۔ لیکن آرمی ایکٹ کے حوالے سے چیزوں کو نہیں چھیڑا گیا۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ملٹری قانون آئین سے ٹکراتا ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ 12 سے 13 فوجی تنصیات پر حملے ہوئے جو سکیورٹی کی ناکامی تھی۔ اس وقت فوجی افسروں کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ کیا 9 مئی پر کسی اور ادارے نے بھی احتساب کیا؟۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس سوال کا جواب اٹارنی جنرل دیں گے۔ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کے جواب الجواب دلائل مکمل ہونے پر سماعت 28 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔ آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل دلائل دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا
نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔
ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔
فیچر کیسے کام کرتا ہے؟صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔
مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا
ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔
ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔
مختلف ڈسپلے موڈزنئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔
پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔
اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔
مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش
فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔
گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔
صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔
بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختمایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔
صارفین کا ردعملفیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔
تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ
ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر