اہل فلسطین سے اظہارِ یکجہتی، اسلامی جمعیت طلبہ کا خیبر پختونخوا میں یوم سیاہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
صوبائی ناظم اسفندیار عزت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا غزہ میں اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے، عالم اسلام کے حکمران نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی اور امریکی سرپرستی میں اسرائیلی جارحیت روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اسلام ٹائمز۔ اہل فلسطین سے اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کیخلاف اسلامی جمعیت طلبہ نے ملک بھر کیطرح خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات اور کالجز میں یوم سیاہ منایا۔ جامعہ عبدالولی خان سمیت باچا خان، ملاکنڈ، کوہاٹ، سوات، گومل، شہید بینظیر بھٹو شرینگل، ایبٹ آباد، ہری پور، ہزارہ اور چترال یونیورسٹیوں میں مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں یکجہتی فلسطین ریلی سے صوبائی ناظم اسفندیار عزت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا غزہ میں اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے، عالم اسلام کے حکمران نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی اور امریکی سرپرستی میں اسرائیلی جارحیت روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اہل غزہ اور فلسطین نے اسرائیل کا غرور خاک میں ملادیا۔57 اسلامی ممالک کی فوجیں جنہوں نے قبلہ اول کا تحفظ کرنا تھا آج وہ خاموشی کی تصویر بنے ہوئی ہیں، اس موقع پر ناظم کوہاٹ کلیم اللہ اور ناظم یونیورسٹی آفتاب احمد بھی موجود تھے۔
جامعہ ملاکنڈ میں یکجہتی فلسطین ریلی سٹار پوائنٹ سے شروع ہوکر مین اکیڈمک بلاک پر اختتام پزیر ہوئی، ریلی کی قیادت ناظم جامعہ معاز خان نے کی۔ سوات یونیورسٹی میں ریلی سے ناظم ڈویژن حمزہ رشید اور ناظم زون ضیاء شاہد نے خطاب کیا۔ جامعہ ایبٹ آباد کے تحت "غزہ مارچ" سے ناظم ہری پور یحییٰ حنیف نے خطاب کیا۔جامعہ عبدالولی خان مردان میں ریلی سے ناظم مردان فاروق محمد نے خطاب کیا۔ریلی میں سینکڑوں کی تعداد میں طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ اہل غزہ سے اظہارِ یکجتی کے لیے جہانزیب کالج سے نشاط چوک تک سٹوڈنٹس مارچ کا انعقاد کیا گیا۔سٹوڈنٹس مارچ سے امیر جماعت اسلامی شمالی عنایت اللہ خان اور ناظم مینگورہ ضیاء اللہ نظام نے خطاب کیا۔ امیر جماعت اسلامی شمالی عنایت اللہ خان، نائب امیر جماعت اسلامی سوات اختر علی خانجی، حافظ اسرار احمد، ضیاءاللہ نظام اور دیگر مقررین نے کہا کہ آج مٹھی بھر اسرائیل نے ساٹھ ہزار سے زائد نہتے اور مظلوم فلسطینیوں کو شہید کرکے بربریت کی انتہا کردی ہے لیکن امت مسلمہ کے حکمرانوں نے ان مظالم پر چشم پوشی اختیار کرکے بے حسی کی انتہاء کردی ہے۔
انہوں نے اس موقع پر امت مسلمہ کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی مظالم کا دوٹوک جواب دیں اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اسرائیل کو عالمی دہشت گرد امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے لیکن ڈیڑھ ارب مسلمان صرف تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ جامعہ ہزارہ کے زیر اہتمام یکجہتی فلسطین ریلی سے ناظم ڈویژن عمیر علی، ناظم جامعہ حافظ اسامہ اور سابق ناظم الیاس جبار نے بھی خطاب کیا۔ چترال یونیورسٹی میں ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی سے جنرل سیکرٹری بزم شاہین خیبر پختونخوا مستظہر بااللہ، ناظم چترال عمار بن اسد اور ناظم چترال حسین امین نے بھی خطاب کیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ شرینگل یونیورسٹی کے زیر اہتمام غزہ مارچ کا انعقاد کیا گیا۔ علاوہ ازیں رہائشی حلقوں واڑی، تیمرگرہ، دیر میں بھی یکجہتی فلسطین مظاہرے ہوئے۔ مظاہروں اور ریلیوں میں سینکڑوں کی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی۔ طلبہ نے تعلیمی اداروں میں کتبے اٹھا رکھے تھے، جن پر اہل فلسطین اور غزہ کے حق میں نعرے درج تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یکجہتی فلسطین میں اسرائیل نے خطاب کیا اور ناظم ریلی سے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔