ورلڈ کپ کے لیے قومی ویمنز کرکٹ ٹیم بھارت نہیں جائے گی: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا ہے کہ آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ کے لیے قومی ویمنز کرکٹ ٹیم بھارت نہیں جائے گی۔
قذافی اسٹیڈیم میں خواتین کرکٹ ٹیم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان ویمنز ٹیم معاہدے کے مطابق بھارت نہیں جائے گی۔ بھارت میزبان ہے، وہ فیصلہ کرے گا کہ میچ کہاں منعقد کیے جائیں۔
انہوں نے پاکستان کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم بھارت کے علاوہ کسی بھی نیوٹرل جگہ پر مقابلہ کرنے کو تیار ہے۔
یہ بیان دو طرفہ کرکٹ تعلقات پر جاری کشیدگی کے درمیان سامنے آیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت نے 19 فروری سے 9 مارچ تک شیڈول آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے پاکستان جانے سے انکار کردیا تھا اور اپنے میچز نیوٹرل وینیو پر کھیلے تھے جو اس سے قبل 2023 کے ایشیا کپ میں استعمال کیا گیا تھا۔
کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد دونوں بورڈز نے ڈیڈ لاک کو حل کرنے کے لیے ہائبرڈ ماڈل پر اتفاق کیا۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق یہ ماڈل بھارت کو پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے آئی سی سی ٹورنامنٹس کے لیے نیوٹرل مقامات پر کھیلنے کی اجازت دیتا ہے۔
اس معاہدے کا اطلاق 2025 میں پاکستان میں ہونے والی مینز چیمپئنز ٹرافی، 2025 میں بھارت میں ہونے والے ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ اور 2026 میں بھارت اور سری لنکا میں ہونے والے مینز ٹی 20 ورلڈ کپ پر ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔