اہل غزہ سے اظہار یکجہتی کرنے پر پاکستانیوں کے مشکور ہیں، حماس رہنما
اشاعت کی تاریخ: 20th, April 2025 GMT
کراچی:
فلسطین کی مزاحمت کار تنظیم حماس کے رہنما نے اسرائیلی بربریت اور مظلموں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے پر پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق شاہراہ قائدین پر مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور اسرائیلی بربریت کے خلاف کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
کانفرنس میں حماس کے رہنما ناجی الضہیر نے شرکت کی اور شرکا سے خطاب میں کہا کہ پاکستانی بھائیوں کا فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی پر شکریہ اداکرتے ہیں۔
انہوں نے پُراعتماد لہجے میں کہا کہ فتح فلسطین عوام کا مقدر ہے، اسرائیل مجرم اورانسانیت کا قاتل ہے اور اس کے خلاف فلسطینی عوام کی جدوجہد جاری رہے گی۔
ناجی الظہیر نے کہا کہ پاکستانی عوام اسرائیل جبر کی مذمت اور اہل غزہ کے ساتھ یکجہتی کررہے ہیں جس پر ہم اُن کے مشکور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اہل غزہ نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت میں کمزوری نہیں دکھائی، اسرائیل کے مقابلے میں ہمارے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔ تمام تر مظالم کے باوجود ہم استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اُن کا مزید کہان تھا کہ غزہ میں جاری جنگ صرف فلسطینیوں کی جنگ نہیں یہ مسلم امہ کی جنگ ہے، ہم مسجد اقصٰی اور قبلہ اول کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قرآن میں اللہ کہتا ہے کہ جب تم کو جہاد کے لیے پکارا جائے تو تم کیوں زمین سے چمٹ جاتے ہو، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ظلم کے لیے چھوڑتا ہے۔
کانفرنس سے سیف اللہ خالد، قاضی احمد نورانی، مرکزی مسلم لیگ سندھ کے صدر فیصل ندیم سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا جبکہ شرکا نے فلسطینیوں کے حق اور اسرائیلی مظالم کے خلاف نعرے لگائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اظہار یکجہتی کے خلاف کہا کہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔