احتجاج و پولیس پر تشدد: علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
5 اکتوبر کو پی ٹی آئی کے لاہور میں احتجاج اور پولیس پر تشدد کے معاملےپر عدالت نے علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
عدالت نے علی امین گنڈا پور سمیت پی ٹی آئی کے 4 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
حماد اظہر، سعید سندھو اور شہباز احمد کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔
پولیس نے کہا کہ علی امین گنڈاپور سمیت دیگر افراد شامل تفتیش نہیں ہو رہے، پولیس نے کئی بار شامل تفتیش ہونے کےلیے طلب کیا،ملزمان 5 اکتوبر کے احتجاج اور پولیس پر تشدد کے مقدمات میں مطلوب ہیں۔
پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو ایف آئی آرز میں نامزد کر رکھا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وارنٹ گرفتاری جاری علی امین گنڈاپور
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔