احتجاج و پولیس پر تشدد: علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
5 اکتوبر کو پی ٹی آئی کے لاہور میں احتجاج اور پولیس پر تشدد کے معاملےپر عدالت نے علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
عدالت نے علی امین گنڈا پور سمیت پی ٹی آئی کے 4 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
حماد اظہر، سعید سندھو اور شہباز احمد کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔
پولیس نے کہا کہ علی امین گنڈاپور سمیت دیگر افراد شامل تفتیش نہیں ہو رہے، پولیس نے کئی بار شامل تفتیش ہونے کےلیے طلب کیا،ملزمان 5 اکتوبر کے احتجاج اور پولیس پر تشدد کے مقدمات میں مطلوب ہیں۔
پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو ایف آئی آرز میں نامزد کر رکھا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وارنٹ گرفتاری جاری علی امین گنڈاپور
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک