حج کے خواہشمند 67 ہزار افراد کا معاملہ مزید لٹک گیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )حج کے خواہش مند 67 ہزار افراد کا معاملہ لٹک گیا۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق وزارت مذہبی امور نے الزام لگایا ہے کہ نجی ٹور آپریٹرز نے عدالت جا کر وقت ضائع کیا۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف نے کہا ہے کہ سعودی حکومت کا پورٹل بند ہو چکا، اب وہ مزید عازمین کو اجازت دینے پر آمادہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ نجی حج عازمین میں سے 23ہزار 620 کی کلیئرنس ہو چکی ہے، اس میں سے 13 ہزار افراد حکومت کی کوششوں کی وجہ سے حج کر سکیں گے، جن عازمین نے ادائیگی طریقہ کار کے مطابق سعودی حکام کو کی ہے، ان کی رقم واپس ہو جائے گی۔ وزارت مذہبی امور نے الزام لگایا ہے کہ نجی ٹور آپریٹرز نے عدالت جا کر وقت ضائع کیا۔
ادھر حج آرگنائزرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ناصر خان نے کہا کہ حکومت نے پچھلے سال اپنا سرکاری حج کا کوٹہ پورا نہیں کیا، اس سال وہ اپنا کوٹہ پورا کرنے میں مصروف رہی، اس کے بعد ہمیں اشتہار چلانے کی اجازت دی،اس لئے ہمیں تاخیر ہو گئی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سعودی ولی عہد سے بات کریں تو معاملہ حل ہو سکتا ہے۔یاد رہے کہ رواں سال 10 ہزار حج کوٹہ ملنے کے باجود پرائیویٹ حج سکیم کے 67 ہزار عازمین حج فریضہ حج کی سعادت سے محروم ہو جائیں گے۔
10ہزار کا کوٹہ ملنے کے بعد نجی سکیم کے عازمین حج کی تعداد 24 ہزار ہوگئی اور مزید 67 ہزار کی بکنگ کی جاچکی ہے جبکہ حج آرگنائزرز نے 70کروڑ ریال سعودی عرب بھجوادیے۔
مزید برآں حج کوٹے کے لئے وزیراعظم سے مداخلت کی اپیل بھی کردی گئی ہے اور پاکستان کا کل حج کوٹہ 179210 ہے۔اس میں سے نصف کوٹہ 89605 سرکاری سکیم کا ہے اور 89605 پرائیویٹ حج سکیم کا ہے، حج سروسز کے ایگریمنٹس اور ادائیگیاں شیڈول کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے سعودی حکومت نے پرائیویٹ حج سکیم کے صرف 14ہزار عازمین حج کی پیمنٹس قبول کیں۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ کو فون کیا جس کے نتیجے میں سعودی حکومت نے مزید 10 ہزار عازمین کو اجازت دے دی۔وزارت مذہبی امور نے یہ 10 ہزار کا کوٹہ حج آرگنائزر کی تنظیم ہوپ کو دے دیا۔
خواتین کے ذریعے شہریوں کو ہنی ٹریپ کرنے والے 2 گینگ گرفتار، تہلکہ خیز انکشافات
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔