واجبات کی عدم ادائیگی؛ گلیسپی نے آئی سی سی کا در کھٹکھٹا دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
قومی ٹیم کے سابق ہیڈکوچ جیسن گلیسپی نے واجبات کی عدم ادائیگی پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا در کھٹکٹا دیا۔
گزشتہ دنوں مقامی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو انٹرویو دیتے ہوئے قومی ٹیم کے سابق ہیڈکوچ جیسن گلیسپی انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تاحال انکے واجبات ادا نہیں کیے، یہ صورتحال کافی مایوس کن ہے تاہم امید ہے کہ جلد از جلد یہ معاملہ حل ہو جائے گا۔
تاہم اب انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: سابق ہیڈکوچ تاحال اپنے واجبات کے انتظار میں!
سابق کوچ جیسن گلیسپی کا موقف ہے کہ پی سی بی نے ان کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی شرائط پوری نہیں کیں جبکہ بورڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ قانونی مشیروں نے کیس کا جواب دینے کی تیاری کرلی ہے۔
مزید پڑھیں: اے آئی نے چاہت اور بابراعظم کا مقابلہ کرواڈالا؛ ویڈیو پر مداح حیران
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جیسن گلیسپی نے آئی سی سی کے ڈسپٹ ریزولیوشن چیمبر میں کیس دائر کردیا ہے اور موقف اپنایا گیا ہے کہ پی سی بی پر 50 لاکھ ڈالر سے زائد کی رقم واجب الاادا ہے۔
مزید پڑھیں: مسلسل شکستوں نے عاقب جاوید کی رخصتی کا پروانہ بھی جاری کردیا
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم قانونی عمل کا احترام کریں گے، یہ ایک معمول کا معاہداتی تنازع ہے جو جلد حل ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں: سابق ہیڈکوچ جیسن گلیسپی نے عاقب جاوید کو "جوکر" قرار دیدیا
دوسری جانب کچھ سابق کرکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ پی سی بی کی ساکھ کو متاثر کرسکتا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے دونوں فریقوں کو نوٹس جاری کردیا ہے اور معاملے کی سماعت اگلے ماہ ہونے کی توقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جیسن گلیسپی سابق ہیڈکوچ مزید پڑھیں گلیسپی نے پی سی بی
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔