بلوچستان ہائیکورٹ نے بی این پی کے کارکنان کی رہائی کا حکم دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
بلوچستان ہائیکورٹ نے تھری ایم پی او کے تحت گرفتار بی این پی کے کارکنوں کی رہائی کا حکم دے دیا۔
یاد رہے کہ بی این پی کے 70 کارکنوں کو 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ بی این پی کے وکلا کے مطابق مذکورہ کارکنان کو مستونگ میں دھرنا دینے کی پاداش میں کو گرفتار کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بی این پی کا 20 روز سے جاری دھرنا ختم، صوبے بھر میں ریلیاں نکالنے کا اعلان
کارکنان کی رہائی کا فیصلہ جسٹس روزی خان اور جسٹس سردار حلیمی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سنایا۔
کارکنوں کے وکلا نے حکومتی نوٹیفکیشن بھی عدالت میں جمع کروایا۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے اپنا دھرنا کیوں ختم کیا ہے؟
سماعت میں بی این کی جانب سے ساجد ترین ایڈووکیٹ اور دیگر وکلا پیش ہوئے جبکہ حکومت کی پیروی ایڈووکیٹ جنرل نے کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان ہائیکورٹ بی این پی بی این پی دھرنا بی این پی کارکنان رہا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان ہائیکورٹ بی این پی بی این پی دھرنا بی این پی کارکنان رہا بی این پی کے
پڑھیں:
صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
ویب ڈیسک: صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ