26 نومبر احتجاج؛ پی ٹی آئی کے 12 کارکنوں کو سزا سنا دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
26 نومبر احتجاج کیس میں پی ٹی آئی کے 12 کارکنوں کو سزا سنا دی گئی۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمات کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے پی ٹی آئی کارکنان کو پاپو ایکٹ کیسز میں سزا سنا دی۔
ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزمان (تحریک انصاف کے کارکنوں) کو 66 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے 3 مقدمات (تھانہ رمنا میں 2 اور تھانہ ترنول میں ایک) کا فیصلہ سناتے ہوئے 12 کارکنوں کو سزا سنائی جب کہ ایک کارکن کو بری کردیا۔
فیصلے کے مطابق 26 نومبر کو بغیر اجازت جلسہ جلوس کرنے پر سزا سنائی گئی ہے۔ ملزمان کے خلاف پیس فل اسمبلی اینڈ پبلک آڈر (پاپو) ایکٹ کے تحت مقدمات درج تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔