راجہ بشارت کو گرفتار کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
ارشاد قریشی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما راجہ محمد بشارت کو تھانہ نیو ٹاؤن پولیس کی جانب سے تحویل میں لینے کے بعد رہا کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق راجہ بشارت راولپنڈی میں الیکشن ٹریبونل کے باہر این اے 55 کیس کی پیشی کے سلسلے میں موجود تھے، جہاں انہیں مختصر طور پر پولیس تحویل میں لیا گیا۔ بعد ازاں تھانہ نیو ٹاؤن پولیس نے انہیں چھوڑ دیا۔
رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ میرے خلاف تمام مقدمات میں ضمانت کنفرم ہے، ان اوچھے ہتھکنڈوں سے گھبرانے والے نہیں۔ ہماری سیاسی اور قانونی جدوجہد جاری رہے گی۔
واضح رہے کہ راجہ بشارت پی ٹی آئی کے ان رہنماؤں میں شامل ہیں جن کے خلاف ماضی میں 9 مئی کے بعد مختلف مقدمات درج کیے گئے تھے، تاہم انسداد دہشت گردی عدالت سے انہیں ان مقدمات میں ضمانت حاصل ہو چکی ہے۔
میٹرک امتحان میں فیل ہونے پر طالبعلم نے بڑا قدم اٹھالیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک