ایک کروڑ 23 لاکھ روپے سے زائد کے گیس بل نے شہری کی نیندیں اُڑا دیں تاہم سوئی ناردرن گیس کمپنی نے اپنی غلطی تسلیم کرلی۔
تفصیلات کے مطابق سوئی ناردرن گیس کمپنی نے راولپنڈی کےشہری کی نیندیں اُڑا دیں ، دھمیال کے رہائشی کو1 کروڑ 23 لاکھ روپےسےزائدکا بل بھیج دیا،
متاثرہ اللہ دتہ راجہ سوئی گیس کے دفتر پہنچ گیا اور کہا محکمہ سوئی گیس والے کہتے ہیں بل ہرصورت اداکرنا ہوگا، ایک کروڑ 23 لاکھ روپےگیس کابل کیسے ادا کروں گا، 4 ماہ کا بل ادا نہ کرنے پر ایک کروڑ 23لاکھ کابل بھیج دیا گیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ متاثرہ صارف کے بل کا کیس محکمے کے نوٹس میں آیا ہے، چھان بین جاری ہے، بظاہر اعداد و شمار کمپیوٹر کی غلطی لگتی ہے، متاثرہ صارف کا بل صحیح کر کے نیا بل جاری کیا جائے گا۔
بعد ازاںسوئی ناردرن حکام نے بھاری بھر کم بل جاری کرنے کی غلطی تسلیم کر لی۔
سوئی ناردرن حکام نےمتاثرہ شہری کا بل درست کرکے نیا بل جاری کردیا، صارف اللہ دتہ راجہ کو 40 ہزار240 روپے کا نیا بل جاری کیا گیا۔
حکام نے کمپیوٹرکی غلطی قرا ردے کرنیا بل جاری کیا ، بل کی عدم ادائیگی پر گزشتہ ماہ متاثرہ شہری کا کنکشن منقطع کیا گیا تھا۔

Post Views: 7.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کروڑ 23 لاکھ

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا