کوہاٹ سیمنٹ کی رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں 75 کروڑ کی سرمایہ کاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے ایک مکمل ملکیتی ذیلی ادارہ الٹرا پراپرٹیز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔کمپنی نے اس پیش رفت سے متعلق آگاہی جمعرات کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جاری کردہ اپنے نوٹس میں دی۔کمپنی کے جاری کردہ نوٹس کے مطابق نئے قائم کردہ ادارے کو غیر منقولہ جائیداد کی مارکیٹنگ اور ترقیاتی سرگرمیوں کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جس میں فروخت اور کرائے دونوں مقاصد کے لیے رہائشی و تجارتی منصوبے شامل ہوں گے۔تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ ادارے کا قیام متعلقہ ریگولیٹری منظوریوں اور تمام قانونی ضوابط کی تکمیل سے مشروط ہوگا۔بورڈ آف ڈائریکٹرز نے مجوزہ ذیلی کمپنی میں 75 کروڑ روپے تک کی سرمایہ کاری کی منظوری بھی دی ہے، جو ایکویٹی اور/یا سود پر مبنی قرض کی صورت میں فراہم کی جائے گی۔ علاوہ ازیں، کمپنی کی ایک سرمایہ کاری جائیداد مجوزہ ادارے کو لیز پر دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جہاں کثیر المنزلہ کمرشل عمارتیں تعمیر کی جائیں گی، جو کرایہ پر دی جائیں گی۔اسی اجلاس میں بورڈ نے اعزاز منصور شیخ کو دوبارہ تین سالہ مدت کے لیے چیئرمین اور ندیم عطا شیخ کو چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کرنے کی منظوری بھی دی۔مزید برآں بورڈ نے کمپنی کے شیئرز کی فیس ویلیو 10 روپے سے کم کر کے 2 روپے فی شیئر کرنے کی منظوری بھی دی ہے جس کے تحت ہر ایک شیئر کے بدلے پانچ نئے شیئر جاری کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔