میٹا کا انسٹاگرام صارفین کی عمر کی تصدیق کیلئے اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
میٹا نے انسٹاگرام پر صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، یہ اے آئی ٹول صارفین کی اصل عمر کا تعین کرے گا خواہ وہ غلط معلومات ہی کیوں نہ فراہم کریں۔اگر کوئی صارف اپنی عمر کے بارے میں غلط بیانی کرتا ہے تو اے آئی ٹیکنالوجی اس کی اصلی عمر معلوم کر کے 18 سال سے کم عمر صارفین کو خودکار طور پر “ٹین” اکاؤنٹس میں منتقل کر دے گی۔
یہ ٹین اکاؤنٹس جو ستمبر 2024 میں متعارف کرائے گئے 13 سے 17 سال کے نوجوانوں کے لیے ہیں اور ان پر نوجوانوں کے تحفظ کے لیے مخصوص پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔میٹا نے اپنی بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ اگر کسی اکاؤنٹ کے کم عمر ہونے کا شبہ ہو تو فوری طور پر عمر کی تصدیق کی جائے گی اور اسے محدود سیٹنگز والے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا جائے گا۔
کمپنی نے تسلیم کیا کہ یہ سسٹم غلطیاں کر سکتا ہے لیکن صارفین ضرورت پڑنے پر سیٹنگز کو ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔میٹا کے مطابق کمپنی کچھ عرصے سے عمر کی تصدیق کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے لیکن اب اس میں نمایاں بہتری لا رہی ہے۔پہلے کوئی ایسا طریقہ موجود نہیں تھا جس سے صارفین کی اصل عمر کا درست تعین کیا جا سکے۔
کمپنی نے کہا کہ آن لائن صارفین کی عمر جاننا ایک بڑا چیلنج ہے اور وہ نوجوانوں کے تحفظ اور ان کے لیے بہتر تجربہ یقینی بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔اس فیچر کی ابتدائی آزمائش سب سے پہلے امریکا میں کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: عمر کی تصدیق صارفین کی اے ا ئی کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔