کراچی: ڈاکٹر شاہ فائیو اے سائیڈ ویمنز ہاکی ٹورنامنٹ کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
کے ایچ اے ویمن ونگ کے تحت کے ایچ اے اسپورٹس کمپلیکس کے آسٹرو ٹرف پر ڈاکٹر شاہ فائیو اے سائیڈ ویمنز ہاکی ٹورنامنٹ کا انعقاد ہوا۔ فائنل میں لائنسز آف دی فیلڈ نے پرل پاینئرز کو3-5 سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
اس موقعہ پر ڈاکٹر سید عمران علی شاہ مہمان خصوصی تھے جبکہ تقریب کی صدارت سندھ حکومت کے سیکریٹری اسپورٹس عبد العلیم لاشاری نے کی۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر سید عمران علی شاہ کاکہنا تھاکہ لڑکیاں بھی کھیل کے میدان میں کسی سے کم نہیں ہیں،اپنے والد ڈاکٹر سید محمد علی شاہ مرحوم کی پیروی کرتے ہوئے ہاکی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
سیکریٹری اسپورٹس عبدالعلیم لاشاری نے کےایچ اے کی خدمات کو سراہتے ہوئے بھرپور تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ زیر تعمیر ہوسٹل اپنے مقررہ وقت پر مکمل ہو جائے گا۔
کے ایچ اے کے صدر امتیازعلی شاہ نے کہا کہ کے ایچ اے میں ہاکی کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔خوبصورت گراونڈ کا تمام تر سہرا سابق صدرکے ایچ اے ڈاکٹر جنید علی شاہ کو جاتا ہے جنہوں نے اپنے والد کی کھیلوں میں خدمات کے سلسلے کو جاری رکھا۔
کے ایچ اے ویمنز ونگ کی صدر اسماء علی شاہ نے کہا کہ سید امتیازعلی شاہ کا بطور صدر کے ایچ اے سے جڑنا کراچی میں ہاکی کی کامیابی کی ضمانت ہے،ویمن ہاکی کے فروغ کے لیے ہر ممکن کاوش کی جائے گی۔
تقریب میں سابق رکن قومی اسمبلی ریحان ہاشمی، کے ایچ اے کے سیکریٹری اولمپین حنیف خان، اولمپین کلیم اللہ، اولمپین افتخار سید، اولمپین وسیم فیروز، اولمپین ناصرعلی ، قومی ٹیم کے سابق انٹرنیشنل گول کیپر کوچ عبدالغفور، قومی ویمنز ٹیم کے کوچ محمد نعیم ،کے ایچ اے کی سیکرٹری ویمن ونگ بتول کاظم ، صغیر حسین اور دیگر بھی موجود تھے۔
ثمینہ تبسم،ندا انجم،ماہ نور،ریجا معیز،حمنا ندیم،ایمان اور گلناز غلام نبی نے ایمرجنگ ویمن پلئیرز کے ایوارڈز حاصل کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔