معروف ترک ڈیجیٹل کریئیٹر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ترکان آتائے نے حال ہی میں پاکستانی فیشن ڈیزائنر ماریہ بی کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

ترکان نے دعویٰ کیا ہے کہ ماریہ بی نے ان کے ساتھ پیشہ ورانہ بددیانتی کی اور ان کی خدمات کا مکمل معاوضہ ادا نہیں کیا۔

ترکان آتائے، جن کے انسٹاگرام پر 8.53 لاکھ فالوورز ہیں، اردو زبان میں کانٹینٹ تیار کرتی ہیں اور پاکستان میں ان کی ایک بڑی فین فالوؤنگ موجود ہے، وہ پاکستان میں تعلیم حاصل کر چکی ہیں اور انہوں نے اپنے پاکستانی یونیورسٹی فیلو زکا سے شادی کی، اسی لیے انہیں اکثر ‘پاکستانی بھابھی’ بھی کہا جاتا ہے۔

ترکان کا ماریہ بی پر الزام
ترکان نے سوشل میڈیا پر اپنے ویڈیوز میں بتایا کہ میں نے اپنی اسٹوریز میں پہلے بھی بتایا تھا کہ مجھے ماریہ بی نامی برانڈ کے ساتھ مسائل کا سامنا ہے، کئی لوگ سمجھ گئے تھے کہ یہ برانڈ ماریہ بی ہی ہوگا، 2025 میں انہوں نے ترکی میں شوٹ کے لیے مجھ سے دوبارہ رابطہ کیا، یہاں ترکی میں ہمیں شوٹ کے لیے جگہ، ماڈلز، اور دیگر چیزوں کا خرچ خود اٹھانا ہوتا ہے، اسی لیے میں نے ہر لباس کے حساب سے معاوضہ مانگا، میں نے انہیں کوٹیشن دی اور تمام میسجز میرے پاس موجود ہیں، میں نے ویڈیوز بنائیں، پوسٹ کیں اور اپنا کام مکمل کیا’۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Türkan Atay (@turkanpk)


ترکان نے مزید کہا کہ ‘ماریہ بی نے مجھے ایک ہی بار رقم دی، حالانکہ میں نے واضح طور پر ہر لباس کے عوض معاوضہ طے کیا تھا، بعد میں انہوں نے کہا کہ شاید کوئی غلط فہمی ہو گئی کیونکہ وہ انسٹاگرام ریلز کے حساب سے ادائیگی کرتے ہیں’۔

انہوں نے بتایا کہ ‘اب 3 ماہ ہو چکے ہیں اور وہ میرا وقت ضائع کر رہے ہیں، مجھے بےوقوف بنا رہے ہیں، یہ میرے پیسے ہیں، اور مجھے پورا حق ہے کہ میں ان سے جو چاہوں کروں، میں دوبارہ کبھی ان کے ساتھ کام نہیں کروں گی، ان کا رویہ نہایت غیر پیشہ ورانہ ہے’۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Türkan Atay (@turkanpk)


ترکان نے انسٹاگرام پر مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ماریہ بی نے میرے خلاف اسٹوریز شیئر کیں، لیکن ماریہ باجی! آپکی آواز بہت اونچی ہے، میں سب سُن رہی ہوں، میرے پاس ہماری پوری چیٹ کے ثبوت موجود ہیں’۔

انہوں نے بتایا کہ ‘جب میں نے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ معاملات ان کا مینیجر دیکھتا ہے، میرے شوہر نے بھی ان سے بات کی لیکن بعد میں انہوں نے اپنے تمام پیغامات ڈیلیٹ کر دیے، میں وہ اسکرین شاٹس بھی یہاں شیئر کروں گی، اگر آپ صحیح تھیں تو اپنے پیغامات کیوں ڈیلیٹ کیے؟ ہمیں مکمل ادائیگی کیوں نہیں کی؟’

ماریہ بی کی وضاحت
دریں اثنا ماریہ بی نے بھی ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ‘ہمارا برانڈ ماریہ بی ہمیشہ سے کریئیٹرز، ماڈلز اور انفلوئنسرز کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، ہم شفافیت، دیانتداری اور باہمی احترام پر یقین رکھتے ہیں’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘گزشتہ 25 سالوں کے دوران ہم نے سینکڑوں انفلوئنسرز کے ساتھ کامیاب کولیبریشن کیا ہے اور ہمیشہ بروقت ادائیگیاں کی ہیں، حال ہی میں ایک کانٹینٹ کریئیٹر (ترکان آتائے) کے معاملے میں ایک غلط فہمی ہوئی اور ہم نے معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے ملاقات کا وقت بھی طے کیا اور ادائیگی سے ہرگز انکار نہیں کیا لیکن انہوں نے حل کی کوشش کے بجائے ہمیں بدنام کرنے کیلئے ویڈیو بنا دی، ہم اس غلط فہمی پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں’۔

بیان کے آخر میں اُن کا کہنا تھا کہ ‘ہم کرِیئیٹو کمیونٹی کو سپورٹ کرنے اور اپنے تمام کولیبریٹرز کے ساتھ باعزت اور شفاف تعلقات استوار کرنے کے لیے پُرعزم ہیں’۔

سوشل میڈیا صارفین کی تنقید
سوشل میڈیا پر اس تنازع نے ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے، صارفین نے ماریہ بی پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ہمیشہ مذہب کارڈ کھیل کر اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ ‘ترکان نے آخرکار ماریہ بی کو ایکسپوز کر دیا’ جبکہ دیگر صارفین کا کہنا تھا کہ ‘ادائیگیوں کے معاملے میں زیادہ تر برانڈز کا یہی رویہ ہوتا ہے’۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: میں انہوں نے ماریہ بی نے سوشل میڈیا ترکان نے کے ساتھ کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا