اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل 2025ء ) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آج نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) آڈیٹوریم، اسلام آباد میں ایک قومی سیمینار کا انعقاد کیا جس کا عنوان تھا ''خطرات کی پیشگی آگاہی کے ذریعے رپورٹنگ کو موئثراور مضبوط بنانا''۔ سیمینار میں میڈیا اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبہ ماہرین، پالیسی ساز اداروں، سرکاری اور غیر سرکاری فلاحی تنظیموں کے نمائندگان نے بھر پور انداز میں شرکت کی اور آفات کے خطرے سے متعلق آگاہی اور تیاری میں میڈیا کے ابھرتے ہوئے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے شرکاء کو خیر مقدم کرتے ہوئے میڈیا کے کردار کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ایسے دور میں جب خبریں قلیل وقت اور تیزی سے پھلتی ہیں تومین سٹریم میڈیا کی ذمہ دار ی بڑھ جاتی ہے تا کہ عوام تک مستند اور حقیقت پر مبنی خبریں بروقت پہنچ سکیں۔

(جاری ہے)

سیمینار کے شراکاء کو ڈپٹی ڈائریکٹر میڈیا کی جانب سے ایک جامع میڈیا بریف پیش کیا گیا جس میں موئثر رسک کمیونیکیشن کے لیے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق حکمت عملیوں اورمصنوعی ذہانت پر مبنی اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔

سیمینار میں دو عدد معلوماتی سیشنز کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں پہلے سیشن کا موضوع آفات کی رپورٹنگ کا فریم ورک تھا جس میں ہنگامی حالات کے دوران عوام کے تاثرات اور رویے پر میڈیا کے اثر و رسوخ کے حوالے سے بات چیت ہوئی جبکہ دوسرے سیشن میں میڈیا، حکومت اور فلاحی اداروں کے درمیان مفاہمت کے لیے خطرات سے آگاہی اور وسائل کو متحرک کرنے میں میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالی گئی۔ سینیٹر شیری رحمان نے سیمینار میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی، اختتامی خطاب کرتے ہوئے، قومی استحکام کوفروغ دینے اور عوامی شمولیت سے خطرات کے بارے میں آگاہی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے آفات کی تیاری اور ریسپانس کی کوششوں میں میڈیا کے کردار کی اہمیت اور ضرورت پر زور دیا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں میڈیا میڈیا کے

پڑھیں:

پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری کر دیئے گئے۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق 6لاکھ 32ہزار کاشتکاروں نے 2ارب 54کروڑ روپے کے قرض استعمال کرلئے،گندم کے سیزن میں کاشتکاروں نے 100ارب کی زرعی مداخل خریدیں،کسان کارڈ کے ذریعے خریف کی فصل کیلئے 90ارب روپے دیئے گئے،کاشتکاروں نے 57ارب روپے کی اقساط ادا کردیں،3لاکھ کاشتکاروں نے 30ارب کے زرعی مداخل کسان کارڈ کے ذریعے حاصل کئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کاکہناتھا کہ کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکار کی قسمت بدل رہی ہے،پنجاب کا کاشتکار اب کسی آڑھتی کا مقروض نہیں،پنجاب کے کاشتکار کو خودمختار اورخوشحال دیکھنا میرا خواب ہے،کاشتکاروں نے قرض کی بروقت ادائیگی سے مثال قائم کی ہے۔

کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟