مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعہ بھارت کی سوچی سمجھی سازش ہے.بھارت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کیلئے ڈرامے رچاتا ہے. سفارتی دوروں پرفالس فلیگ آپریشنزبھارت کا وطیرہ ہے. امریکی نائب صدرکے دورے کے موقع پر بھارت نے ڈرامہ رچایا۔لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سینیٹر عرفان صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلگام واقعہ بھارت کی سوچی سمجھی سازش ہے.

جسے پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ بھارت ماضی کی طرح ایک بار پھر جھوٹے اور من گھڑت واقعات کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔عرفان صدیقی نے کہا کہ سفارتی دوروں پر فالس فلیگ آپریشنز بھارت کا وطیرہ ہے، اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی نائب صدر کے دورہ بھارت کے موقع پر بھی اسی نوعیت کا ڈرامہ رچایا گیا تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جا سکے۔مرکزی رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکا واقعہ فالس فلیگ ہے، بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرتا چلا آ رہا ہے، یہی اس کا ٹریک ریکارڈ ہے، بھارت نے کشمیریوں کی زمینوں پر قبضہ کیا اور انہیں قتل کیا۔سینیٹرعرفان صدیقی کا کہنا تھا نہروں کے ایشو پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا اتحاد متاثر نہیں ہوگا۔پی ٹی آئی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں اور ان کے ساتھ انصاف ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے بارہا نظام عدل پر تنقید کرتے ہیں. مگر عدالتیں ان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کر رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی اندرونی اختلافات اور قیادت کی کشمکش کا شکار ہے۔ عہدوں کی بندربانٹ پر پارٹی میں جھگڑے ہو رہے ہیں. پی ٹی آئی والے آپس میں گتھم گتھا ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: عرفان صدیقی پی ٹی آئی نے کہا کہ رہا ہے

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی