سپیکر قومی اسمبلی کی گورنر مدینہ منورہ سے اہم ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
سٹی 42: سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے گورنر مدینہ منورہ شہزاد سلمان بن سلطان سے اہم ملاقات کی
گورنر ہاؤس آمد پر گورنر مدینہ کا سپیکر قومی اسمبلی کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا ، ملاقات میں پاک سعودی دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ،مسلم اُمہ کی یکجہتی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور دہشتگردی کے خلاف تعاون پر گفتگو کی گئی ،
پی ایس ایل10؛ ملتان سلطانز کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا پاکستانی عوام مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ سے دلی عقیدت رکھتے ہیں،پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب کی مانند ہیں، سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا، پارلیمانی سفارتکاری دونوں اقوام کو مزید لانے میں کلیدی اہمیت کی حامل ہے، پارلیمانی وفود کے تبادلے دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے،مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر مسلم امہ کا اتحاد ناگزیر ہے،اسرائیل فلسطین میں بے گناہ اور معصوم شہریوں کا خون بہا رہا ہے، اقوام عالم کو فلسطین میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہیے،
زیلنسکی کا کریمیا پر روسی قبضہ ماننے سے انکار، امریکہ کے نائب صدر کا یوکرین کو الٹی میٹم
گورنر مدینہ شہزاد سلمان بن سلطان نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے جذبات اور تاثرات کو سراہا ، گورنر مدینہ نے کہا سعودی عرب پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے، گورنر مدینہ کا مسلم اُمہ کے اتحاد و یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا فلسطین میں قیام امن کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں،
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔