پاکستانی ہائی کمیشن بند کرنے کا اعلان،، اٹاری چیک پوسٹ واہگہ بارڈر بند،پاکستانی شہریوں کو ویزے نہیں دیے جائیں گے، تمام پاکستانیوں کو 48گھنٹوں میں بھارت چھوڑنے کا حکم

پاکستان ہائی کمیشن میں موجود تمام دفاعی، فوجی، بحری اور فضائی مشیروں کو ناپسندیدہ قرار، پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کا عملہ یکم مئی تک 55 سے کم کر کے 30کر دیا جائے گا، عملے کو واپس آنے کی ہدایت

مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر ہو نے والے حملے کے بعد پہلے سے ہی مشکلات سے دوچار پاک بھارت تعلقات شدید کشیدگی کے شکار ہو گئے ہیں۔ بھارتی حکومت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا، اٹاری چیک پوسٹ اور واہگہ بارڈر بند کردی، نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو بند کرنے اور اسلام آباد میں موجود اپنے اہل کاروں کو واپس بلانے کے احکامات جاری کردیے ۔تفصیلات کے مطابق بھارتی حکومت نے پہلگام واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ کیا گیا سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کردیا، اٹاری چیک پوسٹ بند اور واہگہ بارڈر کو بند کرنے کا حکم دے دیا۔بھارتی حکومت نے نئی دہلی میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن کو بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے ، پاکستان میں موجود اپنے سفارت کاروں کی تعداد محدود کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسلام آباد میں موجود اپنے سفارت خانے کے عملے کو واپس آنے کی ہدایت کردی۔ذرائع کے مطابق پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کا عملہ یکم مئی تک 55 سے کم کر کے 30 کر دیا جائے گا۔بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستان میں موجود تمام بھارتی شہریوں کو بھی یکم مئی تک اٹاری چیک پوسٹ کے راستے واپس آنے کی ہدایت کر دی ہے۔بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق ان فیصلوں کے تحت اب پاکستانی شہریوں کو ویزے نہیں دیے جائیں گے ۔بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے کہا ہے کہ بھارت میں موجود پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنا ہوگا۔واضح رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کا الزام پاکستان پر عائد کیا ہے اور اس واقعے کو بنیاد بناتے ہوئے مذکورہ اقدامات کا اعلان کیا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان