WE News:
2026-06-03@02:08:33 GMT

پہلگام حملہ: اسکرپٹ، ہدایت کاری، اداکاری کی غلطیاں

اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT

پہلگام میں 2 درجن افراد کو ہلاک کرکے اس کا الزام پاکستان پر عائد کرنے کا مںصوبہ ناکام ہوا ہے تو اس میں بے چارے نریندر مودی کا کیا قصور؟ انہیں اسکرپٹ رائٹر اچھے ملے ہیں نہ ڈائریکٹر، اور نہ ہی اداکار۔

منصوبہ بھارتی وزیر اعظم اور بھارتی وزیر داخلہ نے خوب سر جوڑ کر بنایا تھا کہ جب مودی جی سعودی عرب میں اور امریکی نائب صدر  جے ڈی وینس بھارت میں ہوں تو ریاست جموں و کشمیر کے سب سے پر امن مقام پر کارروائی ڈالنی ہے۔

ایسا منصوبہ پہلی بار نہیں بنایا گیا تھا۔ اس سے پہلے، جب بھی کوئی امریکی صدر بھارت آیا، دہشتگردی کا کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہوا۔ بعدازاں یہ راز بھی کھل گیا کہ ایسے واقعات خود بھارتی ایجنسیاں کچھ مقاصد حاصل کرنے کے لیے کرواتی رہیں۔ مثلاً سن 2000 میں ہونے والا چھٹی سنگھ پورہ کا سانحہ، جس میں ایک ہی وقت میں 35 سکھوں کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا تھا۔ اس کا الزام بھی پاکستان پر عائد کیا گیا تاہم بعد ازاں معاملہ کسی دوسرے انداز میں کھلا۔

بھارتی آرمی کے سابق جنرل ایس کے گل کہتے ہیں کہ اس واقعے کا مقصد بھارت کے دورے پر آئے ہوئے بل کلنٹن کے سامنے پاکستان کے خلاف پرواپیگنڈا کرنا تھا کہ دیکھیں! پاکستان کیا کررہا ہے۔ انھوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ منصوبہ بی جے پی نے تیار کیا تھا۔

خیر ! پہلگام حملہ پلان کا مقصد بہت واضح تھا جو کسی بھی طفل مکتب کو سمجھ آ سکتا ہے کہ اس واقعے کے بعد مودی جی سعودی عرب میں اور امیت شاہ بھارت میں بین ڈالتے، اپنے سر کے بال نوچتے، ان میں راکھ ڈالتے کہ پاکستان نے کشمیر میں دہشتگردی شروع کردی۔

تاہم بُرا ہو بھارتی فوجی افسران کا جو پرلے د رجے کے چغد نکلے، وہ اپنے وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی امیدوں پر پورا نہ اتر سکے۔ اسکرپٹ میں غلطیاں، ہدایت کاری میں غلطیاں اور اداکاری بھی غلطیوں سے بھرپور۔ ایسے میں سارے منصوبے کا ستیاناس ہوگیا۔

مثلاً سہ پہر 3 بجے ’حملہ‘ ہوا اور تین بج کر تین منٹ پر سوشل میڈیا پر ایک جیسے الفاظ کے ساتھ پوسٹس شائع ہونا شروع ہوگئیں، جن میں حملہ کا الزام پاکستان پر عائد کردیا گیا۔ ارے بھائی! حملے اور پوسٹس میں تھوڑا سا وقفہ ہی ڈال لیتے تاکہ اس سارے ’ڈرامہ‘  پر کچھ نہ کچھ ’ حقیقت‘ کا  گمان ہوتا۔

پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ واقعہ ہونے کے اگلے 24 گھنٹے تک غیر ملکی میڈیا کو جائے وقوعہ تک رسائی نہیں دی گئی۔انھیں 60 کلومیٹر دور ہی روک دیا گیا۔ یہ بات بھی شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہے۔ اب ان گھامڑوں کو کون سمجھائے کہ ڈرامہ کو کامیاب کرنے کے لیے ضروری تھا کہ وہاں ’حملے‘ کے فوری بعد کچھ ایسا ماحول بنایا جاتا کہ پہلی نظر میں دیکھنے سے ہی وہ ’دہشتگردی‘ لگتا۔ پھر فوراً غیرملکی میڈیا کو یہ ’دہشتگردی‘ دکھائی جاتی۔ یوں خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی۔

لیکن یہ ہدایت کار اور اداکار اس قدر نکمے اور نااہل نکلے کہ اس واقعے کے بعد 2 دراندازوں کو ہلاک کرکے ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردیا کہ کنٹرول لائن سے دراندازی ہوئی۔ یعنی 400 کلومیٹر دور سے۔ اور ہلاک ہونے والے ’دراندازوں‘ کے جوتے لش پش کر رہے تھے اور جوتے بھی شادی پر پہنے جانے والے تھے نہ کہ کمانڈوز والے۔ اگر کسی کو شک ہو تو بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا میں شائع ہونے والی تصاویر ہی دیکھ لے۔

پھر ان ’دراندازوں‘ کے کپڑے بھی سلوٹوں سے پاک و صاف و شفاف تھے۔ ان کے پاس ایسا اسلحہ اور سازوسامان نہیں تھا جو گوریلا کارروائیوں میں استعمال ہوتا ہو۔

سوشل میڈیا  اور مین سٹریم میڈیا پر شائع ہونے والی یہ ساری تصاویر ہدایت کاروں کی نااہلی کے سارے پول کھول رہی ہیں۔ اب تو ان ’دراندازوں‘ کے نام اور گاؤں کے نام بھی سامنے آ گئے ہیں۔ ثابت ہوچکا ہے کہ بھارتی فوج نے مقامی نوجوانوں کو پکڑ کر ہلاک کردیا اور انھیں ’درانداز‘ قرار دیدیا۔

مقبوضہ کشمیر دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں فوجیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ہر 11 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی مسلط ہے۔ اس کے باوجود ایسے واقعات رونما ہونا حیران کن ہے۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ حملے میں مارے جانے والوں اور زخمی ہونے والوں میں انٹیلی جنس افسران اور ان کی فیملی کے لوگ تھے۔ کیا یہ بات مانی جاسکتی ہے کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز نے ان افسران کی حفاظت کا انتظام نہیں کیا ہوگا؟ پانچ چھ نامعلوم آئے، انھوں نے دو ڈھائی درجن لوگوں کو مارا اور آرام سکون سے واپس پلٹ گئے۔

واضح طور پر کہا جا رہا ہے کہ یہ ’حملہ‘ خود بھارتی ایجنسیوں کا کیا دھرا ہے۔ کشمیر کی حریت پسند قیادت بھی اس حملے سے لاتعلقی کا اعلان کر رہی ہے اور اسے بھارتی ایجنسیوں کی کارروائی قرار دے رہی ہے۔ بھارتی ایجنسیاں اس سے پہلے بھی ایسی حرکتیں کر چکی ہیں۔

پہلگام حملہ کا عمومی مقصد پاکستان کا تاثر دنیا میں خراب کرنا تھا لیکن ایک خاص اور بڑا مقصد بھی تھا اور اب بھی ہے کہ پہلگام اور ایسے ہی دہشتگردانہ واقعات کروا کے، پھر ان کے بہانے ریاست جموں کشمیر کے باسیوں پر ایک نیا اور زیادہ سخت عذاب توڑا جائے۔ مخالفین پر کریک ڈاؤن کیے جائیں، باقی لوگوں کو بدترین پابندیوں کا شکار رکھا جائے۔ اس طرح ریاست جموں کشمیر پر بھارتی تسلط کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کیا جائے۔

جب پانچ اگست 2019 کو بھارت نے ریاست جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، تب سے اب تک کشمیری قوم شدید غم و غصے بلکہ ایک سکتے کی سی کیفیت میں ہے۔ بھارت کو خوف لاحق ہے کہ کشمیری قوم کی یہ کیفیت کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ جب یہ اضطراب طوفان کی شکل اختیار کرے گا تو بھارت کا بہت کچھ تباہ و برباد ہوجائے گا۔

چنانچہ اب حکمت عملی یہ ہے کہ ایسے دہشتگردانہ واقعات کرکے ایک طرف دنیا بھر سے ہمدردیاں سمیٹی جائیں اور دوسری طرف کشمیری قوم پر شکنجہ زیادہ سے زیادہ کس دیا جائے تاکہ وہ مستقبل بعید تک سر جھکا کر ہی جئیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبیداللہ عابد

بھارت پہلگام حملہ ریاست جموں کشمیر عبیداللہ عابد.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت پہلگام حملہ ریاست جموں کشمیر عبیداللہ عابد ریاست جموں کشمیر پہلگام حملہ بھارتی ا

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی