بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے کشمیر میں حکام کیساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی ہے اور نریندر مودی سعودی عرب کا دورہ مختصر کرکے ہندوستان واپس پہنچ گئے۔ اسلام ٹائمز۔ پہلگام دہشتگردانہ حملے کے سلسلے میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی رہائشگاہ پر کابینہ کمیٹی برائے سکیورٹی (CCS) کی میٹنگ ہو رہی ہے۔ بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، وزیر خزانہ نرملا سیتارمن سمیت تمام سینیئر وزراء میٹنگ میں موجود ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ میٹنگ میں پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد بھارت کی طرف سے جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ نریندر مودی کی صدارت میں ہونے والی "سی سی ایس" میٹنگ میں پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور سندھ طاس معاہدے پر بھی بڑا فیصلہ ہوسکتا ہے۔

22 اپریل کو جموں و کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے پہلگام میں سیاحوں پر مبینہ حملہ ہوا، جس میں 26 لوگ مارے گئے، اسے 2019ء میں پلوامہ حملے کے بعد وادی کشمیر میں سب سے مہلک حملہ قرار دیا گیا ہے۔ ادھر بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے کشمیر میں حکام کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی ہے اور نریندر مودی سعودی عرب کا دورہ مختصر کرکے ہندوستان واپس پہنچ گئے اور اب ان کی رہائشگاہ پر میٹنگ جاری ہے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے سیاحوں پر قریب سے فائرنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ زخمیوں کو مقامی لوگوں نے اپنے خچروں پر نیچے لایا تھا۔ درایں اثنا آج جموں و کشمیر کے تمام سرکاری و غیر سرکاری ادارے بند رہے جبکہ تجارتی مراکز اور بازار بھی مکمل طور پر بند رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن