لندن(نیوز ڈیسک) حکومتِ پاکستان اور برطانیہ کی ممتاز تعلیمی درسگاہ یونیورسٹی آف کیمبرج کے درمیان “علامہ اقبال وزیٹنگ فیلوشپ” کے قیام کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس یادداشت کا مقصد کیمبرج یونیورسٹی کے سنٹر فار ساؤتھ ایشین اسٹڈیز میں علامہ اقبال کے نام سے ایک وزیٹنگ فیلوشپ کا باضابطہ آغاز ہے، جو پاکستان کے علمی، ادبی اور فکری ورثے کو فروغ دے گا۔

اس موقع پر برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، حکومتِ پاکستان اور یونیورسٹی آف کیمبرج کے درمیان ہونے والی مفاہمتی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں یونیورسٹی آف کیمبرج کے پرو وائس چانسلر پروفیسر کمال منیر، سنٹر فار ساؤتھ ایشین اسٹڈیز کی ڈائریکٹر پروفیسر شائلاجہ فینل، اور پاکستان ہائی کمیشن لندن کے دیگر افسران بھی شریک تھے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال کی پاکستان کی تاریخ، ادب اور فلسفے میں خدمات بے مثال ہیں۔ انہیں پاکستان کا “فکری بانی” تصور کیا جاتا ہے۔ ان کا وژن تحریک پاکستان کی نظریاتی بنیاد بن کر ابھرا اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح سمیت کئی رہنماؤں کو متاثر کیا۔

ہائی کمشنر نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت ہماری اُس دیرینہ کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان کے ثقافتی، ادبی اور علمی ورثے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔ یہ شراکت داری تعلیمی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔

اس فیلوشپ کے تحت حکومتِ پاکستان ملک کے ممتاز ماہرین تعلیم کو نامزد کرے گی، جن میں سے ایک کو کیمبرج یونیورسٹی وزیٹنگ فیلو کے طور پر منتخب کرے گی۔ منتخب فیلو کیمبرج میں طلباء و اساتذہ سے پاکستان کی تاریخ، زبان، ثقافت، ادب، جغرافیہ اور عالمی و علاقائی تناظر پر لیکچرز اور مباحثے کرے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ، اردو، مطالعہ پاکستان، اور پاکستانی ادب و تاریخ کی تدریس بھی کی جائے گی۔

یہ اقدام پاکستان اور برطانیہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے مابین ہم آہنگی، تحقیق اور فکری تعاون کو فروغ دینے میں ایک نیا باب ثابت ہوگا۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: یونیورسٹی آف کیمبرج پاکستان اور علامہ اقبال

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ