سندھ طاس معاہدے پر بھارت دہشت گردی کر رہا ہے: مشعال ملک
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
اسلام آباد (نیوزڈیسک) حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر بھارت دہشت گردی کر رہا ہے، بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا خوفناک پلان تیار کیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشعال ملک کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعہ بھارت ایجنسی ’را‘ نے کروایا ہے، اس سے قبل پٹھان کوٹ اوردیگر واقعات بھی انڈین ایجنسیز نے کرائے، جعفر ایکسپریس ہو یا گجرات کے واقعات ہوں سب میں بھارت ملوث رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے پاس صرف ٹورازم کا شعبہ رہ گیا تھا وہ بھی ان سے چھین لیا گیا، کشمیریوں کی روایت ہے انہوں نے کبھی اپنے مہمانوں اور سیاحوں کو نقصان نہیں پہنچایا، کشمیریوں نے کرفیو کے دوران سیاحوں کو اپنے گھروں میں رکھا، خود کشمیری بھوکے رہے اور سیاحوں کو کھانا کھلایا، مودی سرکار بہانہ بنا کر جنگ چھیڑنا چاہتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بغیر ثبوت کے بھارت نے پاکستان پر الزام عائد کیا، بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ توڑا ہے، سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا قابل مذمت ہے، بھارتی اقدام سے خطے کے امن کو خطرہ ہے۔
مشعال ملک نے کہا کہ بھارت دنیا بھر میں کشمیریوں کو ٹارگٹ کر رہا ہے، بھارت میں مسلمانوں اور سکھوں سمیت اقلتیں محفوظ نہیں، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، اقوام متحدہ اور عالمی برادری بھارتی ہٹ دھرمیوں پر آواز اٹھائیں۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔