بھارتی سفارتکاروں کو 48 گھنٹےمیں ملک چھوڑنے کا حکم دیاجائے: سپریم کورٹ بار کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے 48 گھنٹےمیں بھارتی سفارتکاروں کے ملک چھوڑنے کا حکم دینے کا مطالبہ کردیا۔
سپریم کورٹ بار کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارتی سفارتکاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دیا جائے اور 48 گھنٹےمیں ملک چھوڑنے کا حکم دیاجائے۔
صدر سپریم کورٹ بار میاں رؤف نے کہا کہ پہلگام واقعےکے باعث سفارتی کشیدگی سےآگاہ ہیں، قومی وقارکے تحفظ کے لیے سخت اورمؤثر جواب ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پر بھارتی الزامات مضحکہ خیز جھوٹ کا پلندہ اور بے بنیاد ہیں ، پہلگام واقعہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت چھپانےکی ناکام کوشش ہے، بھارتی فوج کی سرپرستی میں مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق پامال کیے جارہے ہیں اور بھارت مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔
پہلگام واقعہ
خیال رہےکہ مقبوضہ کشمیر میں پہلگام کے سیاحتی مقام پر گزشتہ روز سیاحوں پر ہونے والے حملے کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کی پریس کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ تمام پاکستانیوں کے بھارتی ویزے کینسل کیے جارہے ہیں، بھارت میں موجود پاکستانیوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ بھی معطل کردیا ہے۔
لکی مروت میں پولیس وین کے قریب دھماکا ، 3 اہلکار زخمی
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ بار ملک چھوڑنے کا
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔