پاکستان کے زر مبادلہ کے سیال ذخائر کی صورتحال
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
پاکستان کے زر مبادلہ کے مجموعی سیال ذخائر 18 اپریل کو 15،436.0 ملین ڈالر تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ریکارڈ
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اس کی تحویل میں زر مبادلہ ذخائر 10،205.9 ملین ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کی تحویل میں زرِمبادلہ کے خالص ذخائر 5،230.1 ملین ڈالر ہیں۔ یوں زر مبادلہ کے مجموعی سیال ذخائر 15،436.
مزید پڑھیے: زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ اضافہ: وجہ کیا ہے اور پاکستانی معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟
اس طرح 18 اپریل 2025 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر بیرونی قرضے کی ادائیگیوں کے باعث 367 ملین ڈالر کی کمی سے 10،205.9 ملین ڈالر رہ گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیٹ بینک آف پاکستان زرمبادلہ ذخائر فارن ایکسچینج فارن ریزورز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک ا ف پاکستان زرمبادلہ ذخائر فارن ایکسچینج فارن ریزورز زر مبادلہ کے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔