فضائی کمپنی نے مسافر کو جہاز سے اترجانے کے لیے 3 ہزار ڈالر کی پیشکش کیوں کی؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
ڈیلٹا ایئر لائن نے شکاگو سے سیئٹل جانے والے ایک مسافر کو 3 ہزار ڈالر کی پیشکش کی لیکن شرط یہ تھی کہ وہ جہاز سے اتر کر کوئی اور فلائٹ پکڑ لے۔
یہ بھی پڑھیں: ’بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے‘، برسوں پیسہ جوڑ کر فراری خریدنے والے کی خوشی چند منٹوں کی نکلی
مذکورہ مسافر نے سوشل میڈیا پر تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس نے بورڈنگ مکمل کر لی تھی کہ ایئرلائن اسٹاف کی جانب سے اس کو فلائٹ چھوڑ کو کسی اور جہاز سے جانے کے عوض ڈالر کی پیشکش کی گئی۔
مسافر کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ پیر کو شکاگو اوہیئر سے سیئٹل جانے والی ڈیلٹا فلائٹ میں پیش آیا انہوں نے کہا کہ بورڈنگ کا عمل مکمل کرلیے جانے کے بعد ایک گیٹ ایجنٹ خاموشی سے میرے پاس آیا اور کہا کہ ہم ایندھن کے توازن کے مسائل کی وجہ سے 2 مسافر اتارنا چاہتے ہیں اور اس پر رضامند ہونے والے مسافر ڈھونڈ رہے ہیں اگر آپ اس پر راضی ہیں تو ہم آپ کو اس کے عوض معاوضہ دیں گے۔
اس نے بتایا کہ وہ اس پر راضی ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک اور مسافر بھی وہاں پہنچ گیا جس کو دوسرا اسٹاف ممبر راضی کرکے لایا تھا اور دونوں ہنسی خوشی پیسے قبول کرکے کسی اور فلائٹ سے جانے کے لیے وہاں سے نکل آئے۔
مزید پڑھیے: جرمنی کا صدیوں پرانا شاہ بلوط کا درخت پریمیوں کا پیغام رساں کیسے بنا؟
اس شخص کا کہنا تھا کہ پہلے وہ سمجھا کہ وہ اور دوسرا مسافر ہی خوش قسمت ہیں جن کو محض فلائٹ تبدیل کرنے کے عوض اتنی بڑی رقم کی پیشکش ہوئی لیکن پتا چلا کہ اسی روز ڈیلٹا کے ساتھ ایک اور ٹیکنیکل معاملہ ہوا تھا جس کی وجہ سے اس کو 22 مسافروں کو فلائٹ سے اترجانے کے لیے راضی کرنا پڑا۔ اس کے عوض فضائی کمپنی نے ان مسافروں کو ہرجانہ ادا کیا۔
سوشل میڈیا پر اس شخص کی پوسٹ کے نیچے چند دیگر مسافروں نے بھی اپنے کمپینٹس میں مختلف فضائی کمپنیوں کی جانب سے ایسے ہرجانے وصول کیے جانے کے واقعات بیان کیے۔
مزید پڑھیں: ’ساتھی ہاتھ بڑھانا‘: چیلسی کے رہائشیوں کا ہزاروں کتابیں شفٹ کرنے کا انوکھا طریقہ
ایک صارف نے بتایا کہ اس کو بھی ایک مرتبہ فلائٹ تبدیل کرنے کے لیے اس کو 500 ڈالر کی پیشکش کی گئی جس پر وہ راضی نہیں ہوا اور جہاز کی طرف بڑھنے لگا تو اسٹاف نے 1000 ڈالر کی بولی لگا دی وہ پھر بھی نہیں رکا تو پہلے اسٹاف نے 1500 اور پھر 1800 ڈالر بول دیے جس پر وہ فوری راضی ہوگیا۔ اس کے مطابق وہ سودا مہنگا نہیں تھا تھوڑا سا وقت اضافی صر جرمنی کا صدیوں پرانا شاہ بلوط کا درخت پریمیوں کاف کرکے اس کو اتنے سارے پیسے مل گئے۔
کمینٹ سیکشن میں ایک اور صارف نے بھی کہا کہ اس کو بھی ایک مرتبہ اسی طرح 3 ہزار ڈالر کا فائدہ ہوا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ڈیلٹا ایئر فضائی کمپنی مسافر کو ہرجانہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ڈیلٹا ایئر مسافر کو ہرجانہ ڈالر کی پیشکش کی جانے کے کہا کہ کے عوض کے لیے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔