افواج پاکستان مودی سرکار کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں، حسین شاہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے معاون خصوصی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان بشمول گلگت بلتستان کے عوام اپنی بہادر افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ معاون خصوصی برائے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حسین شاہ نے کہا ہے کہ مودی سرکار اور بھارتی میڈیا جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے اپنا ذاتی مفاد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ایک بیان میں حسین شاہ کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کی جانب سے اپنی حکومت کے اندرونی مسائل معاشی دباو اور سیاسی خلفشاریوں اور چالاکیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان پر الزام تراشی کا پرانا وطیرہ پھر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے لئے افواج پاکستان مودی سرکار کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں اور پاکستان کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان بشمول گلگت بلتستان کے عوام اپنی بہادر افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان مودی سرکار کے لئے
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔