اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے پہلگام میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس چیئرمین فتح اللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس کے آغاز پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کی والدہ اور بھابھی کے انتقال پر فاتحہ خوانی اور دعا کی گئی۔

کمیٹی نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور اشتعال انگیز قرار دیا۔

قومی ویمن ٹیم کی سابق کپتان ندا ڈار ناراض، ڈومیسٹک میچز کھیلنے سے انکار

کمیٹی نے اپنے اعلامیے میں زور دیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ہمیشہ خطے میں امن کے قیام کیلئے سنجیدہ کوششیں کرتا رہا ہے اور دہشت گردی کا خود شکار رہا ہے، تاہم اگر بھارت کی جانب سے کوئی بلاجواز اقدام کیا گیا تو پاکستان اس کا مناسب اور مؤثر جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

اجلاس میں کمیٹی نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی، اٹاری بارڈر کی بندش، سفیروں کی واپسی جیسے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے کے دو ایٹمی ریاستوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

توشہ خانہ ٹو کیس؛ عمران خان، بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستیں سماعت کیلیے مقرر کرنیکا حکم

اجلاس کے دوران ’’پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2024ء‘‘ کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا، وزارت دفاع نے کمیٹی کو بل کی اہم شقوں سے آگاہ کیا، جن میں فلاحی سرگرمیوں، الیکٹرانک جرائم اور طریقہ کار میں اصلاحات شامل ہیں۔

وزارت کا کہنا تھا کہ یہ ترامیم پاک فوج اور فضائیہ کے حالیہ ترمیمی ایکٹس سے مطابقت کیلئے کی جا رہی ہیں تاکہ تینوں مسلح افواج کے قوانین میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے، کمیٹی نے بل کو متفقہ طور پر قومی اسمبلی سے منظور کرانے کی سفارش کی۔

مزید برآں اجلاس میں سرویئر جنرل آف پاکستان اور چاروں صوبوں و گلگت بلتستان کے محکمہ معدنیات کے سیکرٹریز نے معدنی وسائل کی سروے اور میپنگ میں نجی شعبے کی شمولیت کے حوالے سے بریفنگ دی۔

سفیرپاکستان فیصل نیاز ترمذی کی دبئی میں برٹش یونیورسٹی کے طلباء سے ملاقات

کمیٹی نے زور دیا کہ نجی اداروں کی بجائے سرویئر جنرل کے محکمے کی خدمات کو ترجیح دی جائے تاکہ حساس معلومات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

وفاقی وزارت دفاع کے زیر انتظام ایف جی ای آئی تعلیمی اداروں اور وزارت تعلیم کے تحت ایف ڈی ای اداروں کے درمیان فنڈز کی تقسیم میں فرق پر بھی گفتگو ہوئی، کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ اور منصوبہ بندی کے سیکرٹریز کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ فنڈز کی غیر مساوی تقسیم پر وضاحت لی جا سکے۔

اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی عقیل ملک، ابرار احمد، صباء صادق، اسفندیار بھنڈارہ، صلاح الدین جونیجو، سنجے پروانی، گل اصغر خان، پلین بلوچ، محمد اسلم گھمن، غلام محمد اور محترمہ زیب جعفر (پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع) نے شرکت کی۔

وہ 3 آئی فونز جن پر واٹس ایپ چلنا بند ہونے والا ہے

اس کے علاوہ اجلاس میں سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد علی HI(M)، ایڈیشنل سیکرٹری (آرمی) میجر جنرل عامر اشفاق کیانی، وزارت قانون و انصاف، دفاع اور صوبائی حکومتوں کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔
 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی برائے دفاع اجلاس میں کمیٹی نے

پڑھیں:

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار

اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33  ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط  بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے  کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • متنازع اے این ایف بھرتی اشتہار کی معطلی کی درخواست پر عدالت کا تحریری حکم نامہ جاری
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کردیا گیا
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم