پہلگام حملے کے پیچھے خود بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے، علی رضا سید
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
اپنے بیان میں چیئرمین کشمیر کونسل ای یو نے پہلگام واقعے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سویلینز، بالخصوص نہتے سیاحوں پر حملہ انسانی و اخلاقی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں نہتے سیاحوں پر ہونے والے حالیہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ علی رضا سید نے اپنے بیان میں پہلگام واقعے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سویلینز، بالخصوص نہتے سیاحوں پر حملہ انسانی و اخلاقی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیر کونسل ای یو کے چیئرمین نے کہا ہے کہ تشدد، قتل و غارت اور سویلینز کو نشانہ بنانا کسی بھی مُہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں، ہم اس واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کی غیر جانبدارانہ اور بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کی جائیں۔ علی رضا سید نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے خود بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے تاکہ عالمی برادری کو گمراہ کیا جا سکے اور یہ تاثر دیا جا سکے کہ اس میں کشمیری یا پاکستانی ملوث ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک ایسے نازک وقت پر کیا گیا ہے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھارت کے دورے پر تھے، یہ واقعہ 2000ء کے اُس سانحے کی یاد دلاتا ہے جب امریکی صدر بل کلنٹن کے بھارت آمد کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں سکھوں کا قتلِ عام کیا گیا تھا تاکہ بین الاقوامی رائے عامہ کو متاثر کیا جا سکے اور پاکستان پر الزام لگا کر پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو خراب کیا جا سکے۔ ایک ریٹائرڈ بھارتی جنرل کے۔ایس گل نے بھی انٹرویو میں اس بات کی تائید کی ہے کہ بل کلنٹن کے دورے کے دوران بھارت جموں و کشمیر میں سکھوں کے قتلِ عام میں ملوث تھا اور اس کا مقصد پاکستان اور امریکا کے تعلقات خراب کرنا تھا۔ کشمیر کونسل ای یو کے چیئرمین نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری اس واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور بھارت کو اس طرح کی سازشوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ علی رضا سید نے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازع علاقے ہے، مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اور پُرامن طریقے سے ممکن ہے، عالمی برادری اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید نے بین الاقوامی کیا جا جا سکے
پڑھیں:
پاکستان کا کمزور اقتصادی ڈھانچہ لرزرہا ہے
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (کامرس ڈ یسک)ملکی معیشت مسلسل دباؤ میں ہے پاکستان کا اقتصادی ڈھانچہ خطرناک حد تک غیر مستحکم ہو چکا ہے۔ پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے مسلسل نئے قرضے لینے سے مجموعی قرضوں کا بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہے جبکہ نجی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی ہو رہی ہے۔ متعدد کاروباری گروپ اپنے سرمائے کو بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں جس سے صنعتی پیداوار، روزگار اور ٹیکس وصولی پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے ایک بیان میں کہا کہ مقامی ماہرین کے بعد اب عالمی مالیاتی اداروں نے بھی پاکستان میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی، کمزور حکمرانی اور غیر شفاف انتظامی ڈھانچے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک سرکاری عمال کو اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانے کا پابند نہیں بنایا جاتا احتساب کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا اور اصلاحات کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچ سکتا۔ بیوروکریسی کے منفی رویے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پانچ سو ارب روپے سے زیادہ ٹیکس دینے والے ٹیلی کام شعبے کے نمائندوں سے ملاقات کے لیے بھی اعلیٰ افسران کے پاس وقت نہیں ہے۔شاہد رشید بٹ نے کہا کہ بدعنوانی کے باعث اقتصادی شرح نمو متاثر ہو رہی ہے جس کا براہ راست اثر روزگار، قیمتوں اور نجی کاروبار کی لاگت پر پڑ رہا ہے۔خطے کے تقابلی جائزے میں پاکستان کی معاشی کمزوری مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ بھارت گزشتہ برسوں میں چار اعشاریہ دو کھرب ڈالر کی معیشت کے ساتھ عالمی سطح پر چوتھی بڑی طاقت بن چکا ہے جبکہ پاکستان کا قومی بجٹ صرف باسٹھ ارب ڈالر ہے اور فی کس آمدنی تقریباً سترہ سو ڈالر کے قریب ہے۔ بالغ شرح خواندگی ساٹھ فیصد کے لگ بھگ ہے جو علاقائی ممالک سے کم ہے۔افغانستان سے تجارت کی معطلی کے حکومتی فیصلے پر بات کرتے ہوئے شاہد رشید بٹ نے کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور یہ فیصلہ دفاعی نقطہ نظر سے ضروری ہے۔ تجارتی تعطل اس وقت تک برقرار رکھا جائے جب تک طالبان حکومت دہشت گردی نہیں روکتی طالبان رہنماؤں کو جاری کئے گئے تمام فری ہیلتھ کارڈ بھی فوری منسوخ کیے جائیں۔