پاک بھارت کشیدگی؛ جنگ ہوئی تو کسی کا کچھ نہیں بچے گا، خواجہ سعد رفیق
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
لاہور:
پاک بھارت کشیدگی پر مسلم لیگ نے کے سینیئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ دو ایٹمی طاقتیں تناؤ کی حالت میں آمنے سامنے کھڑی ہیں، چنانچہ جنگ ہوئی تو کسی کا کچھ نہیں بچے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھارتی فالس فلیگ آپریشن کے پاکستانی ردعمل پر اظہار خیال کرتے ہوئے سعد رفیق نے کہا کہ پہلگام حملے پر بغیر ثبوت و تحقیق پاکستان پر الزام تراشی انتہا پسند مودی حکومت کا غیر دانشمندانہ عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈس واٹر سسٹم ٹریٹی کی غیر قانونی منسوخی سمیت پاکستان مخالف بھارتی اقدامات نے علاقے میں ٹینشن بڑھا دی ہے جبکہ پاکستانی اقدامات جوابی کارروائی ہیں۔
سعد رفیق نے کہا کہ ہم پہل نہیں کریں گے لیکن حملہ ہوا تو پوری قوت سے جواب دیا جائے گا، بھارت بامعنی مذاکرات جاری رکھتا تو بہت سے متنازعہ مسائل ہو سکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے بیچ سب سے بڑا تاریخی تنازعہ کشمیر ہے، اگر کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق مل جائے تو پائیدار امن کی جانب بڑھا جا سکتا ہے۔
سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پانی، سیاچن، سر کریک سمیت تمام مسائل پر بات ہو سکتی ہے لیکن بھارتی حکومتیں ہمیشہ مذاکرات سے فرار ہو جاتی ہیں۔ مان لیں کہ ہم ایک دوسرے کو ختم نہیں کر سکتے اور جنگ کبھی مسائل کا حل نہیں ہوا کرتی۔
ن لیگ کے سینیئر رہنما نے کہا کہ ہر مسئلے پر بات چیت کریں، راستے بنائیں اور امن سے رہنا سیکھیں۔ پائیدار امن خطے میں خوشحالی اور استحکام لا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔