Daily Ausaf:
2026-07-24@07:36:17 GMT

ماتمِ پہلگام ۔۔۔۔۔۔خاموشی کی چیخ

اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT

کشمیر،وہ دلِ مضطرب جوبرف پوش پہاڑوں کے سینے میں دھڑکتاہے،ایک بارپھرلہو لہان ہوگیاہے۔پہلگام کی سرسبزوادی،جو کبھی سیاحوں کی مسکراہٹوں سے جگمگاتی تھی،آج ماتم کدہ بن چکی ہے۔وادی کشمیر،برصغیرکے دل میں ایک ایساخطہ ہے جو اپنی فطری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ایک پیچیدہ تاریخی وجغرافیائی ورثہ بھی رکھتاہے۔برطانوی استعمارکے اختتام پرجب برصغیرکوتقسیم کیاگیاتوریاست جموں وکشمیر کی حیثیت متنازعہ ہوگئی۔اس نزاع نے خطے کوایسی کشمکش میں دھکیل دیاجوآج بھیگزشتہ78سالوں سے سلگ رہی ہے۔
پہلگام میں سیاحوں پرحملہ صرف کشمیرمیں ہی نہیں بلکہ عالمی امن واستحکام کیلئیایک سنگین چیلنج ہے۔یہ خطہ1989ء سے تشدد کی لپیٹ میں ہے،جس میں بیرونی مداخلت،مقامی ناراضگی اورجیواسٹریٹجک مفادات کاامتزاج نظرآتاہے۔تاحال کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی،جوعام طورپرکشمیرمیں دہشت گرد واقعات کے برعکس ہے۔یہ خلاء سازش کے نظریات کوہوادیتاہے۔
بیسرن کے سنسان میدانوں میں گونجتی گولیوں کی آوازنے نہ صرف انسانی جانیں نگلیں،بلکہ اس وادی کی خوبصورتی کوبھی نوحہ گربنادیا۔وہ میدان جہاں کبھی بچے تتلیاں پکڑتے تھے،آج خون آلودکپڑوں اورسسکیوں سے بھرچکاہے۔وہ چراگاہ جس پرکبھی گڈریے بانسری بجاتے تھے،آج انسانی المیے کی گواہی دے رہی ہے۔ پہلگام،جہاں حالیہ دہشت گردانہ حملہ ہوا،ضلع اننت ناگ کاسیاحتی مقام ہے اوراس کامحلِ وقوع نہایت اسٹریٹیجک ہے۔یہ علاقہ نہ صرف مقامی سیاحت کامحورہے بلکہ امرناتھ یاتراکاایک اہم پڑابھی ہے، جس کی بنیاد پر یہاں ہمہ وقت سکیورٹی موجودرہتی ہے۔
یہ حملہ محض ایک واردات نہیں،بلکہ ایک پیغام ہیایک خاموش اشارہ،جو سیاسی بساط پرکچھ بڑی چالوں کاپیش خیمہ معلوم ہوتاہے۔یہ حملہ عین اس وقت وقوع پذیرہوتاہے جب ایک اعلیٰ امریکی وفد ہندوستان کے دورے پرموجودہے۔کیایہ محض اتفاق ہے؟ یاایک گہری، پیچیدہ سازش کاوہ مکارانہ باب ہے جس سے انسانی مستقبل کی تباہی کے مناظرچیخ چیخ کر اپنے طرف متوجہ کر رہے ہیں؟یہ وہ سوال ہے جس کاجواب تلاش کرنامحض صحافت کی نہیں،ضمیرِ انسانی کی ضرورت ہے۔
یہ پہلی بارنہیں کہ جب کبھی عالمی توجہ ہندوستان کی طرف مائل ہوتی ہے،کشمیرمیں خون کی ندی بہادی جاتی ہے۔تاریخ کی گردسے جھانک کردیکھئے توجب بھی کوئی اعلیٰ امریکی عہدیدار بھارت آتاہے،کشمیرمیں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوتاہے۔ کیاتعجب ہے کہ جب بھی امریکی یادیگرمغربی رہنماجنوبی ایشیاکادورہ کرتے ہیں،خطے میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھاگیا ہے۔مثال کے طورپر
2000ء میں امریکی صدرکلنٹن کے دورہ بھارت کے دوران چھٹی سنگھ جموں میں50سکھوں کوان کی مذہبی عبادت گاہ گوردوارہ میں گولیوں سے بھون دیاگیااورصرف آدھ گھنٹے میں اس کاالزام کشمیری مجاہدین اورپاکستان پرلگادیا گیا جبکہ خودبھارتی حکومت کی طرف سے مقررکردہ تحقیقی کمیشن جس کی سربراہی ایک ریٹائرڈجسٹس اورایک ریٹائرڈفوجی جرنیل کے ساتھ دیگرسوشل سروس کے ایک ماہرنے مشترکہ تحقیق کے بعدانڈین انٹیلی جنس کوموردِ الزام ٹھہرادیا۔
اسی طرح 2016ء میں پٹھانکوٹ میں فوجی اڈے پرامریکی صدراوباماکے دورے سے قبل ہوا،جسے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لئے استعمال کیاگیا۔
جون2024ء میں ہندو یاتریوں پرحملہ،جس میں9افرادہلاک ہوئے۔ابتدائی الزامات حسبِ روایت پاکستان پرلگائے گئے،مگربعدازاں تحقیقات کی دبیزپرتوں میں سے انڈین خفیہ اداروں کے سائے جھانکتے نظرآئے۔
الفاران نامی گروہ نے1995ء میں پہلگام میں6غیرملکی سیاحوں کواغواکیا،لیکن تحقیقات میں انڈین خفیہ ایجنسی’’را‘‘کاہاتھ پایاگیا۔بعد میں یہ اغواکاری ایک’’فالس فلیگ‘‘ آپریشن ثابت ہوا۔
اب پہلگام پرموجودہ حملہ امریکی نائب صدرکے دورے کے موقع پرپیش آگیاجس کے بارے میں کئی عالمی تجزیہ نگاربھی شکوک وشبہات کااظہارکررہے ہیں کہ حملہ ممکنہ طور پرانڈیاکوبین الاقوامی ہمدردی حاصل کرنے یاتوجہ ہٹانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔ آج ایک مرتبہ پھرامریکی نائب صدرکادورہ ہندایک اہم خارجی پس منظرمہیاکرتاہے۔ایسے واقعات نہ صرف خطے میں غیریقینی کی فضاپیداکرتے ہیں بلکہ عالمی توجہ کومخصوص بیانیوں کی طرف موڑتے ہیں۔
ٹرائیکا(امریکا،اسرائیل اورانڈیا)کے ملوث ہونےکےواضح ثبوت اورشواہدموجودہیں۔ بلوچستان اورکشمیرمیں ٹرائیکا پاک چین کے اس عظیم الشان پراجیکٹ سی پیک سے اس لئے خوفزدہ ہے کہ اس کی تکمیل سے دنیابھرکی تجارتی منڈیوں پرامریکااورمغرب کی اجارہ داری ختم ہونے کاخدشہ ہے۔اسی لئے امریکانے چین کوبحرِ ہنداوربحرالکاہل میں محدود کرنے کے لئے ’’کواڈ‘‘ جیسااتحاد بنایا ہے۔ بحرہندکے سونامی کے بعد ہندوستان، جاپان،آسٹریلیااورامریکانے آفات سے بچاکی کوششو ں میں تعاون کے لئے 2007ء میں ایک غیر رسمی اتحادبنایا۔جاپان کے اس وقت کے وزیراعظم شینزو آبے نے اس اتحادکوباضابطہ چوکورسیکورٹی ڈائیلاگ یاکواڈکی طرح شکل دی۔کواڈکوایشین آرک آف ڈیموکریسی قائم کرنا تھالیکن اپنے ممبروں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی اورالزامات کی وجہ سے یہ گروپ چین مخالف بلاک کے سواکچھ نہیں رہا۔کواڈکی ابتدائی تکراربڑی حدتک سمندری سلامتی پرمبنی رہی ہے لیکن اب امریکا اسے چین کی بڑھتی ہوئی معاشی ترقی اورعالمی اجارہ داری کومحدودکرنے کے لئے استعمال کرنے کاخواہاں ہے۔
پاکستان اورچین سی پیک کے ذریعے اسٹرٹیجک پارٹنرہیں،اس لئے پہلگام کے واقعہ جیسی گہری سازش کے ممکنہ محرکات اوراس کوبنیاد بنا کر عالمی طورپرپاکستان پرالزام تھوپ کر جارحیت کاپروگرام ترتیب دینے کی کوشش کی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیانے پاکستان پردباؤبڑھانے کے لئے اپنے سفارتی تعلقات کوفوری طورپرمحدود کرتے ہوئے پاکستان میں اپنے سفارت خانے کے افرادمیں کمی کا اعلان کردیاہے،پاکستانی شہریوں پرپابندی عائد کرتے ہوئے ہرقسم کے ویزوں کومنسوخ کردیاہے اوراس وقت انڈیامیں جوپاکستانی ویزوں پرگئے ہوئے ہیں،ان کوہرحال میں یکم مئی تک ملک چھوڑنے کاکہاگیاہے۔ انڈیا اورپاکستان کے مابین دریاں کے پانی کی تقسیم کا عالمی معاہدہ‘‘سندھ طاس‘‘کاپانی روکنے کااعلان کردیاہے جبکہ اس معاہدے کاضامن ’’ورلڈبینک‘‘ ہے۔پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بھی ہنگامی اجلاس بلاکرایسے ہی جوابی کاروائی کاعندیہ دے دیاہے۔گویااس خطے میں پاکستان پردباؤ بڑھاکراپنے اگلے مقاصد کے حصول کے لئے نئی صف بندیوں کاآغازکر دیاگیاہے۔
اسرائیل، امریکا،اورانڈیاکے درمیان دفاعی تعاون گزشتہ دہائی میں نمایاں ہواہے۔رپورٹس کے مطابق،انڈین فوجیوں کی اسرائیل میں موجودگی اس کاسب سے بڑاثبوت ہے کہ ہزاروں انڈین شہری اسرائیلی فوج میں بھرتی ہوچکے ہیں،جوفلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔غزہ میں جنگی جرائم کے عالمی دباؤ اور توجہ کوکم کرنے کے لئے اسرائیل اوراس کے اتحادی کسی نئے محاذکی تخلیق میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ خودمودی حکومت کااندرونی سیاست کایہ ایجنڈہ بھی سامنے آگیاہے کہ وہ کشمیر میں تشددکوانڈیاکی قومی یکجہتی کومضبوط کرنے اورمقامی آبادی کومزید دباکے لئے استعمال کرنے جارہاہے۔دوسری طرف انڈیا کھلم کھلاآقاؤں کے ایماپربلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی مدد سے سی پیک کواور صوبہ خیبرپختونخواہ میں ٹی ٹی پی جیسی دہشگرد تنظیموں کی مددسے پاکستانی استحکام کونشانہ بنارہاہے۔
ابھی حال ہی میں دہشتگردوں اورخوارجی گروہ نے11مارچ2025ء کوجعفرایکسپریس پرحملہ کرکے درجنوں بے گناہ شہریوں کو شہیدکردیاجس کاساراپلان انڈین’’را‘‘نے تیار کیا تھا۔دہشتگردوں نے کھلے عام سی پیک کونشانہ بنانے کااعتراف کرتے ہوئے پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا پربراہ راست چین کواس پراجیکٹ کوفوری بندکرنے کی دہمکییاں بھی دیں۔
اب بھی وہی انداز،وہی اسلوب،وہی اہتمامِ خونریزی!توکیایہ محض دہشت گردی ہے؟یاایک سیاسی اسکرپٹ جس کاسٹیج کشمیرہے، اورتماش بین دنیاکی بے حس آنکھیں ہیں ۔گویا مظلوم کشمیریوں پرہونے والے ہندوبرہمن کے انسانیت سوزظلم وستم کی داستان میں ماضی کے سائے اورحال کادھواں اب خاموشی کے شورکے سمندرمیں تلاطم پیداکررہے ہیں جس کوعالمی نگاہوں سے پو شیدہ رکھنے کے لئے مودی جنتاایک مرتبہ پھراپنی اسی مکاری کاڈرامہ رچاکراقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پرسب سے پرانے تنازعے سے توجہ ہٹانے کے لئے اپنے امریکی اوراسرائیلی استعمارکی مددسے ایسے مکروہ اقدام کررہی ہے۔
(جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے لئے سی پیک

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز