Daily Ausaf:
2026-06-03@05:20:46 GMT

ماتمِ پہلگام ۔۔۔۔۔۔خاموشی کی چیخ

اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT

کشمیر،وہ دلِ مضطرب جوبرف پوش پہاڑوں کے سینے میں دھڑکتاہے،ایک بارپھرلہو لہان ہوگیاہے۔پہلگام کی سرسبزوادی،جو کبھی سیاحوں کی مسکراہٹوں سے جگمگاتی تھی،آج ماتم کدہ بن چکی ہے۔وادی کشمیر،برصغیرکے دل میں ایک ایساخطہ ہے جو اپنی فطری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ایک پیچیدہ تاریخی وجغرافیائی ورثہ بھی رکھتاہے۔برطانوی استعمارکے اختتام پرجب برصغیرکوتقسیم کیاگیاتوریاست جموں وکشمیر کی حیثیت متنازعہ ہوگئی۔اس نزاع نے خطے کوایسی کشمکش میں دھکیل دیاجوآج بھیگزشتہ78سالوں سے سلگ رہی ہے۔
پہلگام میں سیاحوں پرحملہ صرف کشمیرمیں ہی نہیں بلکہ عالمی امن واستحکام کیلئیایک سنگین چیلنج ہے۔یہ خطہ1989ء سے تشدد کی لپیٹ میں ہے،جس میں بیرونی مداخلت،مقامی ناراضگی اورجیواسٹریٹجک مفادات کاامتزاج نظرآتاہے۔تاحال کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی،جوعام طورپرکشمیرمیں دہشت گرد واقعات کے برعکس ہے۔یہ خلاء سازش کے نظریات کوہوادیتاہے۔
بیسرن کے سنسان میدانوں میں گونجتی گولیوں کی آوازنے نہ صرف انسانی جانیں نگلیں،بلکہ اس وادی کی خوبصورتی کوبھی نوحہ گربنادیا۔وہ میدان جہاں کبھی بچے تتلیاں پکڑتے تھے،آج خون آلودکپڑوں اورسسکیوں سے بھرچکاہے۔وہ چراگاہ جس پرکبھی گڈریے بانسری بجاتے تھے،آج انسانی المیے کی گواہی دے رہی ہے۔ پہلگام،جہاں حالیہ دہشت گردانہ حملہ ہوا،ضلع اننت ناگ کاسیاحتی مقام ہے اوراس کامحلِ وقوع نہایت اسٹریٹیجک ہے۔یہ علاقہ نہ صرف مقامی سیاحت کامحورہے بلکہ امرناتھ یاتراکاایک اہم پڑابھی ہے، جس کی بنیاد پر یہاں ہمہ وقت سکیورٹی موجودرہتی ہے۔
یہ حملہ محض ایک واردات نہیں،بلکہ ایک پیغام ہیایک خاموش اشارہ،جو سیاسی بساط پرکچھ بڑی چالوں کاپیش خیمہ معلوم ہوتاہے۔یہ حملہ عین اس وقت وقوع پذیرہوتاہے جب ایک اعلیٰ امریکی وفد ہندوستان کے دورے پرموجودہے۔کیایہ محض اتفاق ہے؟ یاایک گہری، پیچیدہ سازش کاوہ مکارانہ باب ہے جس سے انسانی مستقبل کی تباہی کے مناظرچیخ چیخ کر اپنے طرف متوجہ کر رہے ہیں؟یہ وہ سوال ہے جس کاجواب تلاش کرنامحض صحافت کی نہیں،ضمیرِ انسانی کی ضرورت ہے۔
یہ پہلی بارنہیں کہ جب کبھی عالمی توجہ ہندوستان کی طرف مائل ہوتی ہے،کشمیرمیں خون کی ندی بہادی جاتی ہے۔تاریخ کی گردسے جھانک کردیکھئے توجب بھی کوئی اعلیٰ امریکی عہدیدار بھارت آتاہے،کشمیرمیں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوتاہے۔ کیاتعجب ہے کہ جب بھی امریکی یادیگرمغربی رہنماجنوبی ایشیاکادورہ کرتے ہیں،خطے میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھاگیا ہے۔مثال کے طورپر
2000ء میں امریکی صدرکلنٹن کے دورہ بھارت کے دوران چھٹی سنگھ جموں میں50سکھوں کوان کی مذہبی عبادت گاہ گوردوارہ میں گولیوں سے بھون دیاگیااورصرف آدھ گھنٹے میں اس کاالزام کشمیری مجاہدین اورپاکستان پرلگادیا گیا جبکہ خودبھارتی حکومت کی طرف سے مقررکردہ تحقیقی کمیشن جس کی سربراہی ایک ریٹائرڈجسٹس اورایک ریٹائرڈفوجی جرنیل کے ساتھ دیگرسوشل سروس کے ایک ماہرنے مشترکہ تحقیق کے بعدانڈین انٹیلی جنس کوموردِ الزام ٹھہرادیا۔
اسی طرح 2016ء میں پٹھانکوٹ میں فوجی اڈے پرامریکی صدراوباماکے دورے سے قبل ہوا،جسے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لئے استعمال کیاگیا۔
جون2024ء میں ہندو یاتریوں پرحملہ،جس میں9افرادہلاک ہوئے۔ابتدائی الزامات حسبِ روایت پاکستان پرلگائے گئے،مگربعدازاں تحقیقات کی دبیزپرتوں میں سے انڈین خفیہ اداروں کے سائے جھانکتے نظرآئے۔
الفاران نامی گروہ نے1995ء میں پہلگام میں6غیرملکی سیاحوں کواغواکیا،لیکن تحقیقات میں انڈین خفیہ ایجنسی’’را‘‘کاہاتھ پایاگیا۔بعد میں یہ اغواکاری ایک’’فالس فلیگ‘‘ آپریشن ثابت ہوا۔
اب پہلگام پرموجودہ حملہ امریکی نائب صدرکے دورے کے موقع پرپیش آگیاجس کے بارے میں کئی عالمی تجزیہ نگاربھی شکوک وشبہات کااظہارکررہے ہیں کہ حملہ ممکنہ طور پرانڈیاکوبین الاقوامی ہمدردی حاصل کرنے یاتوجہ ہٹانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔ آج ایک مرتبہ پھرامریکی نائب صدرکادورہ ہندایک اہم خارجی پس منظرمہیاکرتاہے۔ایسے واقعات نہ صرف خطے میں غیریقینی کی فضاپیداکرتے ہیں بلکہ عالمی توجہ کومخصوص بیانیوں کی طرف موڑتے ہیں۔
ٹرائیکا(امریکا،اسرائیل اورانڈیا)کے ملوث ہونےکےواضح ثبوت اورشواہدموجودہیں۔ بلوچستان اورکشمیرمیں ٹرائیکا پاک چین کے اس عظیم الشان پراجیکٹ سی پیک سے اس لئے خوفزدہ ہے کہ اس کی تکمیل سے دنیابھرکی تجارتی منڈیوں پرامریکااورمغرب کی اجارہ داری ختم ہونے کاخدشہ ہے۔اسی لئے امریکانے چین کوبحرِ ہنداوربحرالکاہل میں محدود کرنے کے لئے ’’کواڈ‘‘ جیسااتحاد بنایا ہے۔ بحرہندکے سونامی کے بعد ہندوستان، جاپان،آسٹریلیااورامریکانے آفات سے بچاکی کوششو ں میں تعاون کے لئے 2007ء میں ایک غیر رسمی اتحادبنایا۔جاپان کے اس وقت کے وزیراعظم شینزو آبے نے اس اتحادکوباضابطہ چوکورسیکورٹی ڈائیلاگ یاکواڈکی طرح شکل دی۔کواڈکوایشین آرک آف ڈیموکریسی قائم کرنا تھالیکن اپنے ممبروں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی اورالزامات کی وجہ سے یہ گروپ چین مخالف بلاک کے سواکچھ نہیں رہا۔کواڈکی ابتدائی تکراربڑی حدتک سمندری سلامتی پرمبنی رہی ہے لیکن اب امریکا اسے چین کی بڑھتی ہوئی معاشی ترقی اورعالمی اجارہ داری کومحدودکرنے کے لئے استعمال کرنے کاخواہاں ہے۔
پاکستان اورچین سی پیک کے ذریعے اسٹرٹیجک پارٹنرہیں،اس لئے پہلگام کے واقعہ جیسی گہری سازش کے ممکنہ محرکات اوراس کوبنیاد بنا کر عالمی طورپرپاکستان پرالزام تھوپ کر جارحیت کاپروگرام ترتیب دینے کی کوشش کی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیانے پاکستان پردباؤبڑھانے کے لئے اپنے سفارتی تعلقات کوفوری طورپرمحدود کرتے ہوئے پاکستان میں اپنے سفارت خانے کے افرادمیں کمی کا اعلان کردیاہے،پاکستانی شہریوں پرپابندی عائد کرتے ہوئے ہرقسم کے ویزوں کومنسوخ کردیاہے اوراس وقت انڈیامیں جوپاکستانی ویزوں پرگئے ہوئے ہیں،ان کوہرحال میں یکم مئی تک ملک چھوڑنے کاکہاگیاہے۔ انڈیا اورپاکستان کے مابین دریاں کے پانی کی تقسیم کا عالمی معاہدہ‘‘سندھ طاس‘‘کاپانی روکنے کااعلان کردیاہے جبکہ اس معاہدے کاضامن ’’ورلڈبینک‘‘ ہے۔پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بھی ہنگامی اجلاس بلاکرایسے ہی جوابی کاروائی کاعندیہ دے دیاہے۔گویااس خطے میں پاکستان پردباؤ بڑھاکراپنے اگلے مقاصد کے حصول کے لئے نئی صف بندیوں کاآغازکر دیاگیاہے۔
اسرائیل، امریکا،اورانڈیاکے درمیان دفاعی تعاون گزشتہ دہائی میں نمایاں ہواہے۔رپورٹس کے مطابق،انڈین فوجیوں کی اسرائیل میں موجودگی اس کاسب سے بڑاثبوت ہے کہ ہزاروں انڈین شہری اسرائیلی فوج میں بھرتی ہوچکے ہیں،جوفلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔غزہ میں جنگی جرائم کے عالمی دباؤ اور توجہ کوکم کرنے کے لئے اسرائیل اوراس کے اتحادی کسی نئے محاذکی تخلیق میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ خودمودی حکومت کااندرونی سیاست کایہ ایجنڈہ بھی سامنے آگیاہے کہ وہ کشمیر میں تشددکوانڈیاکی قومی یکجہتی کومضبوط کرنے اورمقامی آبادی کومزید دباکے لئے استعمال کرنے جارہاہے۔دوسری طرف انڈیا کھلم کھلاآقاؤں کے ایماپربلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی مدد سے سی پیک کواور صوبہ خیبرپختونخواہ میں ٹی ٹی پی جیسی دہشگرد تنظیموں کی مددسے پاکستانی استحکام کونشانہ بنارہاہے۔
ابھی حال ہی میں دہشتگردوں اورخوارجی گروہ نے11مارچ2025ء کوجعفرایکسپریس پرحملہ کرکے درجنوں بے گناہ شہریوں کو شہیدکردیاجس کاساراپلان انڈین’’را‘‘نے تیار کیا تھا۔دہشتگردوں نے کھلے عام سی پیک کونشانہ بنانے کااعتراف کرتے ہوئے پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا پربراہ راست چین کواس پراجیکٹ کوفوری بندکرنے کی دہمکییاں بھی دیں۔
اب بھی وہی انداز،وہی اسلوب،وہی اہتمامِ خونریزی!توکیایہ محض دہشت گردی ہے؟یاایک سیاسی اسکرپٹ جس کاسٹیج کشمیرہے، اورتماش بین دنیاکی بے حس آنکھیں ہیں ۔گویا مظلوم کشمیریوں پرہونے والے ہندوبرہمن کے انسانیت سوزظلم وستم کی داستان میں ماضی کے سائے اورحال کادھواں اب خاموشی کے شورکے سمندرمیں تلاطم پیداکررہے ہیں جس کوعالمی نگاہوں سے پو شیدہ رکھنے کے لئے مودی جنتاایک مرتبہ پھراپنی اسی مکاری کاڈرامہ رچاکراقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پرسب سے پرانے تنازعے سے توجہ ہٹانے کے لئے اپنے امریکی اوراسرائیلی استعمارکی مددسے ایسے مکروہ اقدام کررہی ہے۔
(جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے لئے سی پیک

پڑھیں:

میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب

دنیا کے سب سے مقبول کھیل فٹبال کا سب سے بڑا ایونٹ، فیفا ورلڈ کپ 2026، 12 جون سے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں شروع ہو رہا ہے۔ اس بار ٹورنامنٹ کئی حوالوں سے تاریخ ساز ثابت ہونے جا رہا ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ 48 قومی ٹیمیں عالمی اعزاز کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گی جبکہ مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی اس عظیم مقابلے کا حصہ ہوں گے۔

1248 players. 48 nations. Locked in. ????

The Official Squad Lists for #FIFAWorldCup 2026 are here ⤵️

— FIFA World Cup (@FIFAWorldCup) June 2, 2026

فیفا کی جانب سے تمام 48 ٹیموں کے حتمی اسکواڈز کی منظوری کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ورلڈ کپ 2026 کھلاڑیوں، ٹیموں اور میچوں کی تعداد کے اعتبار سے تاریخ کا سب سے بڑا فٹبال ٹورنامنٹ ہوگا۔ ایونٹ میں شریک ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں چار چار ٹیمیں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے، جو سابقہ ورلڈ کپ ایڈیشنز کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ: امریکا نے ایرانی فٹبال ٹیم کو قیام کی اجازت نہیں دی، ٹیم میکسیکو میں رہے گی

میڈیا رپورٹس کے مطابق 1248 کھلاڑیوں میں سے 357 ایسے ہیں جو پہلے بھی ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں، جبکہ 891 کھلاڑی پہلی مرتبہ اس عالمی اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ ماہرین کے مطابق نئے اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا یہ امتزاج ٹورنامنٹ کو مزید دلچسپ اور غیر متوقع بنا سکتا ہے۔

World Cup is exactly TWO weeks away. ???? #FIFA pic.twitter.com/NFDxw8uKlO

— World Cup 2026 (@WorldCupMedia) May 28, 2026

بین الاقوامی میڈیا نے ورلڈ کپ 2026 کو ’فٹبال کی تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ جامع عالمی مقابلہ‘ قرار دیا ہے۔ عالمی نشریاتی اداروں کا کہنا ہے کہ ٹیموں کی تعداد میں اضافے سے نہ صرف مقابلہ زیادہ سخت ہوگا بلکہ دنیا کے نئے خطوں اور ابھرتی ہوئی فٹبال قوموں کو بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے گا۔

اس ورلڈ کپ کی ایک اور نمایاں خصوصیت عالمی فٹبال کے دو عظیم ترین ستاروں، لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو، کی ممکنہ تاریخی شرکت ہے۔ دونوں کھلاڑی اپنے چھٹے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔ میکسیکو کے تجربہ کار گول کیپر گیلرمو اوچوا بھی چھٹی مرتبہ ورلڈ کپ کھیلنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہیں، جو عالمی فٹبال میں ایک منفرد ریکارڈ تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا

ورلڈ کپ 2026 کئی نئی قومی ٹیموں کے لیے بھی یادگار ثابت ہوگا۔ کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کے فائنل مرحلے میں پہنچے ہیں۔ ان ٹیموں کی شمولیت کو فٹبال کی عالمی توسیع اور کھیل کے بڑھتے ہوئے دائرہ اثر کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

عمر کے اعتبار سے بھی اس بار ٹورنامنٹ منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ایونٹ میں شامل سب سے کم عمر کھلاڑی کی عمر صرف 17 برس ہے جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کے ہیں۔ ٹورنامنٹ میں 7 ایسے کھلاڑی شریک ہیں جن کی عمر 40 برس سے زیادہ ہے، جبکہ 22 کھلاڑی 20 سال سے کم عمر ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار نوجوان ٹیلنٹ اور تجربے کے دلچسپ امتزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔

The 2026 FIFA World Cup ???? ⚽ is making its triumphant return to North America, sparking huge excitement across the continent for the world's biggest football tournament, which kicks off on June 11 in Mexico.

Here's your quick guide ????https://t.co/li1RCedN1h

— TRT World (@trtworld) June 1, 2026

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی نہ صرف شمالی امریکا میں فٹبال کی مقبولیت کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی کھیل کی تجارتی اور ثقافتی اہمیت میں اضافہ کرے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ٹورنامنٹ ناظرین، آمدنی اور ڈیجیٹل رسائی کے کئی نئے ریکارڈ قائم کرے گا۔

فٹبال شائقین کی نظریں اب 12 جون پر مرکوز ہیں، جب دنیا بھر کی 48 بہترین ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے اپنی مہم کا آغاز کریں گی اور تاریخ کے سب سے بڑے فیفا ورلڈ کپ کا باقاعدہ افتتاح ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رونالڈو فٹبال ورلڈ کپ 2026 فیفا ورلڈ کپ میسی

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ