پاکستانی اقدامات مودی کیلئے غیرمتوقع، بھارتی میڈیاچلااٹھا
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
اسلام آباد(طارق محمودسمیر)پہلگام واقعہ کے تناظرمیں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی مزیدبڑھ گئی ہے،وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کی آبی جارحیت اور دیگر اقدامات کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے پاکستان نے واہگہ بارڈر، بھارت کیلئے فضائی حدود اور زمینی راستے کے ذریعے تجارت فوری طور پر بند کرنے جیسے بڑے فیصلے کئے گئے جب کہ بھارت کو شملہ معاہدہ بھی ختم کرنے کاعندیہ دیاگیاہے ،پاکستان کے جوابی اقدامات مودی سرکار کے لئے غیرمتوقع ہیں ،ان فیصلوں پر بھارتی میڈیابھی چلااٹھاہے،یقیناًقومی سلامتی کمیٹی کی طرف سے بھارت کو سخت جواب دیناوقت کاتقاضاتھا،خاص طور پربھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ طورپرمعطلی ناقابل قبول ہے،قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سیاسی وعسکری قیادت نے مودی سرکار کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے اعلان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اگرہمسایہ ملک نے پاکستان کا پانی روکا یا اس کا رخ موڑا، تو اسے اعلان جنگ سمجھا جائے گا اور مکمل قومی طاقت سے جواب دیا جائے گا،اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ سندھ طاس معاہدہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور اس میں یکطرفہ معطلی کی کوئی گنجائش نہیں،پاکستان کے لیے پانی ایک اہم قومی مفاد اور 24 کروڑ عوام کی زندگی کی ضمانت ہے، جس کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا ،اسی طرح وزراء کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدہ ختم کیا تو پاکستان بھی شملہ معاہدے سمیت دیگر معاہدے ختم کرنے کا حق رکھتا ہے، بلاشبہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھارت کی پاکستان کے خلاف کھلی آبی جارحیت کے مترادف اور عالمی ضابطوں کی خلاف ورزی ہے ،اس اقدام سے پاکستان کو پانی کا بڑا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے ، زرعی ملک ہونے کی حیثیت سیپاکستان میں فصلوں کی کاشت کا زیادہ تر دارومدار دریاؤں سے پانی کی آمد پر ہوتا ہے، اس تناظرمیں سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لئے بہت اہمیت کاحامل ہے،چنانچہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لئے لائف لائن کی حیثیت رکھتاہے ، پاکستان کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پرابتدائی طور پربھارت کو سخت پیغام دیاگیاہے جب کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے اعلان پر پاکستان کے پاس عالمی بینک سے ثالثی عدالت کے لیے رجوع کاآپشن بھی موجود ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان بھارت کی اس آبی دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر مقدمہ لڑے اور بھارت کی جانب سے کی جانے والی سندھ طاس معاہدے کی بارہاکی خلاف ورزیوں کو مختلف عالمی فورمز پر اٹھا یاجائے اور اپنا ٹھوس موقف اختیار کرے کہ ورلڈ بینک اور دیگر عالمی ادارے بھارت کو آبی دہشت گردی سے باز رہنے پر آمادہ کریں ، علاوہ ازیں عالمی برادری کو بھی اس بھارت کے اس اقدام کے نوٹس لینے چاہئے اور اس ضمن میں اپنااثرورسوخ استعمال کرناچاہئے،امیدہے کہ مودی سرکار اپنے اس اشتعال انگیزانہ اقدام پر نظرثانی کرتے ہوئے یہ غیردانشمندانہ فیصلہ فوری طورپرواپس لے گی بصورت دیگر آبی تنازع پر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ خارج ازامکان نہیں اورخدانخواستہ ایسی صورت حال پیداہوتی ہے تو اس سے صرف پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ پوراخطہ متاثر ہوگا،ادھر وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری کی ملاقات میں فیصلہ کیاگیاہیکہ نئی نہروں کے معاملے پر تمام فیصلے صوبوں کی باہمی رضامندی سے ہوں گے اور مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اس حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایک فیڈریشن ہے اور صوبوں کے ساتھ معاملات باہمی مشاورت سے طے کیے جائیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 2 مئی کو طلب کیا جائے گا جہاں نہروں کے معاملے پر اتفاق رائے سے فیصلہ کیا جائے گا۔یقیناًیہ ایک خوش آئندپیشرفت ہیکیونکہ اس معاملے پر وفاق اورسندھ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی صورت ملک کے مفاد میں نہیں تھی امیدہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں اس معاملے کاکوئی نہ کوئی ایساحل نکل آئے جو دونوں فریقوں کیلئے قابل قبول ہوگا، بدقسمتی سے پاکستان کے اندرجب بھی کوئی منصوبہ تیارکیاجاتاہے تو اسے سیاسی مقاصد کے لئے اتنامتنازع بنادیاجاتاہے چولستان منصوبہ قومی معیشت کے لئے بہت اہمیت کاحامل ہے اسے سردخانے کی نذرنہیں ہوچاناچاہئے ۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے کی سندھ طاس معاہدہ کیا جائے گا پاکستان کے بھارت کو بھارت کی کے لئے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔