وزیر دفاع خواجہ آصف کے انٹرویو کو بھارتی میڈیا سیاق سباق سے پیش کرنے لگا
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف کے بین الاقوامی نشریاتی ادارے کے انٹرویو کو بھارتی میڈیا سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر رہا ہے۔
بھارتی میڈیا نے حقائق کو مسخ کرنے کی ایک بار پھر کوشش کی، وزیر دفاع خواجہ آصف کےانٹرویو کے کچھ حصوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
پہلگام حملہ بھارتی سازش قرار دینے پر آسام کے رکن اسمبلی گرفتارپہلگام حملے کو بھارتی حکومت کی سازش قرار دینے پر.
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ خواجہ آصف نے جنگ کی دھمکی لگائی، جبکہ حقیقت میں وزیر دفاع نے بھارتی حملے کی صورت میں جنگ کے خدشے کی بات کی اور نئی دہلی کو مذاکرات کا پیغام دیا۔
خواجہ آصف نے اپنے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت بین الاقوامی قوتوں کو خطے میں کشید گی میں کمی کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
وزیر دفاع نے ماضی میں سویت یونین کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شرکت کو بھی غلطی قرار دیا اور کہا کہ اگر ہم سویت یونین اور نائن الیون کے بعد امریکی جنگ میں شامل نہ ہوتے تو پاکستان کا بے داغ ریکارڈ ہوتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف وزیر دفاع
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔