پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کی اصل حقیقیت، مودی سرکار کا مسلمانوں کی زمینوں پر ناجائز قبضہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کی اصل حقیقیت سامنے آگئی جب کہ مودی سرکار پہلگام میں مسلمانوں کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنے لگی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ پہلگام میں منظم انداز میں سرکاری انتظامیہ کی سرپرستی میں مسلمانوں کی زمینوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے، انسداد تجاوزات مہم" کے نام پر مسلمانوں کی دکانوں اور مکانات کو بھی مسمار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلمان مالکان کی زمینوں پر ناجائز قبضوں نے پہلگام کے مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیا ہے، پہلگام کی یہ زمینیں صدیوں مسلمانوں کے زیر استعمال ہیں، 2 فروری 2023 کو، حکومتی اہلکاروں نے کشمیری رہنما اور سابق میرواعظ قاضی یاسر کے شاپنگ کمپلیکس کو مسمار کر دیا۔
ذرائع کے مطابق سابق مونسپل کونسلر بشیر احمد ڈار اور منظور احمد کا لارہ پورہ میں تعمیر کردہ ’’گرین ایکر گیسٹ ہاؤس‘‘ کو غیر قانونی تحویل میں لے لیا، مودی سرکار کے ظالمانہ قوانین کے مطابق اب زمین کو ریاستی مفاد کے نام پر کسی بھی مقصد کے لیے لیز پر دیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مودی سرکار نے پہلگام میں لیز کی مدت کو 99 سال سے گھٹا کر صرف 40 سال کر دیا ہے، پہلگام کے دیہی علاقوں میں اس انہدامی مہم کا سب زیادہ نقصان گوجر اور بکروال جیسی خانہ بدوش اقلیتوں کو پہنچا، ان خانہ بدوش اقلیتوں کی رہائش گاہوں کو نشانہ بنا کر 110کنال سے زائد جنگلاتی اراضی ضبط کر لی گئی۔
سیاسی تجزیہ کار کے مطابق مودی سرکار کے یہ تمام اقدامات انسانی حقوق کی سخت خلاف ورزی ہیں، پہلگام کے مسلمانوں کیخلاف ناجائز قبضے کی یہ مہم مقامی آبادی کو بے دخل کرنے کی منظم سازش ہے، مودی سرکار کے یہ اقدامات مقبوضہ کشمیر کے علاقوں میں مسلمانوں کے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
سیاسی تجزیہ کار نے کہا کہ پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کرنے کا مقصد مسلمانوں کی جائدادوں پر ناجائز قبضہ کرنا ہے، علاقے میں ایسی صورتحال پیدا کی جارہی ہے ، تاکہ مسلمانوں کے ملکیت پر بھارتی حکومت قبضہ کر سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسلمانوں کی پہلگام میں مودی سرکار کے مطابق
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔