’ایئر پنجاب‘ پراجیکٹ اور بلٹ ٹرین چلانے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
وزیراطلاعات پنجاب کا کہنا تھا کہ پہلی بار پنجاب اپنی ایئرلائن لارہا ہے، ایک سال کے اندر ایئر پنجاب پروازیں شروع کردے گی جبکہ لاہور سے راولپنڈی تک نئی بلٹ ٹرین کا بھی جلد آغاز کیا جائے گا، ٹرین 2 گھنٹے 20 منٹ میں اپنی منزل پر پہنچ جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ’ایئر پنجاب‘ پراجیکٹ کی منظوری دے دی۔ لاہور میں وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا جس میں پہلی صوبائی ایئر لائن ’ایئر پنجاب‘ کا پراجیکٹ پیش کیا گیا، ’ایئر پنجاب‘ کے لیے فوری طور پر 4 ایئر بس طیارے لیز پر لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔مریم نواز نے ’ایئر پنجاب‘ کو ملک کی بہترین ایئر لائن بنانے کے لیے انتظامات کی ہدایت بھی کی ہے۔ اجلاس میں لاہور ییلو لائن اور ماس ٹرانزٹ لائن گوجرانوالہ پراجیکٹ کا جائزہ لیا گیا جبکہ جناح ٹرمینل ٹھوکر نیاز بیگ تا ہربنس پورہ ییلو لائن پراجیکٹ سٹڈی 30 مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ لائن کی پراجیکٹ سٹڈی کے لیے 15 جون کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے، اجلاس میں ای ٹیکسی پراجیکٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔
علاوہ ازیں لاہور سے راولپنڈی بلٹ ٹرین پراجیکٹ کی اصولی منظوری بھی دے دی گئی، پاکستان ریلوے کے اشتراک سے تیز ترین بلٹ ٹرین چلانے کے لیے مختلف آپشنز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیرِاعلیٰ مریم نواز نے سینئر وزیر مریم اورنگزیب کو پاکستان ریلوے سے اشتراک کا ٹاسک سونپ دیا، بلٹ ٹرین پراجیکٹ کے لیے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے آپشن پر بھی غور کیا گیا۔ مریم نواز نے پنجاب کے مزید 6 روٹس پر ہائی سپیڈ ٹرین کے لیے بھی پلان طلب کر لیا، لاہور سے شاہدرہ اور نارووال تک ہائی سپیڈ ٹرین چلائی جائے گی، لاہور سے رائیونڈ، قصور، پاکپتن سے لودھراں تک بھی ہائی سپیڈ ٹرین چلے گی۔شیخوپورہ، جڑانوالہ سے شور کوٹ تک ہائی سپیڈ ٹرین کا روٹ ہو گا، ہائی سپیڈ ٹرین شور کوٹ سے جھنگ اور جھنگ سے سرگودھا چلائی جائے گی، اسی طرح لالہ موسیٰ سے سرگودھا براستہ ملکوال ہائی سپیڈ ٹرین چلائی جائے گی، فیصل آباد سے چک جھمرہ اور شاہین آباد تک ہائی سپیڈ ٹرین کا روٹ ہو گا۔
دوسری جانب وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پہلی بار پنجاب اپنی ایئرلائن لارہا ہے، ایک سال کے اندر ایئر پنجاب پروازیں شروع کردے گی جبکہ لاہور سے راولپنڈی تک نئی بلٹ ٹرین کا بھی جلد آغاز کیا جائے گا، ٹرین 2 گھنٹے 20 منٹ میں اپنی منزل پر پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا، جعفر ایکسپریس واقعے پر بھارتی میڈیا سیاست کرنے سے باز نہیں آیا، پہلگام حملے پر پاکستان نے کوئی غیر ذمہ دارانہ بیان جاری نہیں کیا، فالز فلیگ کرنا اور جھوٹے ڈرامے کرنا بھارت کا پرانا وتیرہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہائی سپیڈ ٹرین ایئر پنجاب مریم نواز لاہور سے بلٹ ٹرین ٹرین کا جائے گی کے لیے
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز