عازمین کو سرکاری حج اسکیم کے تحت 342 پروازوں کے ذریعے حجاز مقدس پہنچایا جائے گا؛ وزارت مذہبی امور
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
ویب ڈیسک : وزارت مذہبی امور کے مطابق حج آپریشن کے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، پاکستان سے پہلی حج پرواز 29 اپریل کو روانہ ہوگی۔
وزارت مذہبی امور کے جاری اعلامیہ کے مطابق عازمین کو سرکاری حج اسکیم کے تحت 342 پروازوں کے ذریعے حجاز مقدس پہنچایا جائے گا۔ سرکاری اسکیم کے تحت 89 ہزار عازمین کو مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ لے جایا جائے گا۔ عازمین حج کو حجاز مقدس پہنچانے کا آپریشن 33 روز جاری رہے گا، پاکستان سے آخری حج پرواز 31 مئی کو روانہ ہوگی۔ حج پروازوں کے آغاز پر پہلے 15 روز عازمین کو مدینہ منورہ پہنچایا جائے گا۔
گلیڈئیٹرز vs کے کے؛ روسو حسن علی کا تیسرا شکار بن گئے
اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ حج آپریشن کے پہلے روز 6 پروازیں سعودی عرب کےلیے روانہ ہوں گی، 29 اپریل کو لاہور سے دو جبکہ اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ اور ملتان سے ایک ایک پرواز روانہ ہوگی۔ اسلام آباد سے 29 اپریل کو قومی ایئرلائن کی پرواز صبح پونے پانچ بجے روانہ ہوگی، یہ پرواز 393 عازمین کو لے کر روانہ ہوگی۔ اسکے علاوہ لاہور سے نجی ایئرلائنز کی پرواز صبح ساڑھے آٹھ بجے 150 عازمین کو لے کر مدینہ منورہ جائے گی، کوئٹہ سے قومی ایئرلائن کی پرواز صبح ساڑھے نو بجے روانہ ہوگی۔ کوئٹہ سے بھی 150 مسافروں کے ساتھ قومی ایئرلائن کی پرواز روانہ ہوگی۔
قذافی سٹیڈیم میں کوئٹہ گلیڈئیٹرز اور کراچی کنگز کے میچ میں ڈرامائی آغاز
وزارت مذہبی امور کے مطابق اسلام آباد سے 29 اپریل کو قومی ایئرلائن کی پرواز صبح پونے پانچ بجے روانہ ہوگی، یہ پرواز 393 عازمین کو لے کر روانہ ہوگی۔ لاہور سے نجی ایئرلائنز کی پرواز صبح ساڑھے آٹھ بجے 150 عازمین کو لے کر مدینہ منورہ جائے گی، کوئٹہ سے قومی ایئرلائن کی پرواز صبح ساڑھے نو بجے روانہ ہوگی۔ کوئٹہ سے بھی 150 مسافروں کے ساتھ قومی ایئرلائن کی پرواز روانہ ہوگی۔ اس کے علاوہ ملتان سے قومی ایئرلائن کی پرواز رات سوا 8 بجے روانہ ہوگی، ملتان سےقومی ایئرلائن کی پرواز 393 عازمین کو لے کر روانہ ہوگی۔ اسی طرح کراچی سے نجی ایئرلائن کی پرواز رات ساڑھے نو بجے روانہ ہوگی، کراچی سے نجی ایئرلائن کی پرواز سے 285 عازمین سعودی عرب جائیں گے۔
وفاقی کابینہ نے نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی تشکیل دیدی
لاہور سے دوسری پرواز 329 عازمین کے ساتھ رات سوا 10 بجے روانہ ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: قومی ایئرلائن کی پرواز صبح کی پرواز صبح ساڑھے سے نجی ایئرلائن عازمین کو لے کر بجے روانہ ہوگی لاہور سے اپریل کو کوئٹہ سے جائے گا
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں