اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور سی ڈی اے آفیسرز ایسوسی ایشن کا اسلام آباد کی ترقی کے لیے اشتراک پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور سی ڈی اے آفیسرز ایسوسی ایشن کا اسلام آباد کی ترقی کے لیے اشتراک پر اتفاق WhatsAppFacebookTwitter 0 26 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) اور سی ڈی اے آفیسرز ایسوسی ایشن کے درمیان ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں دونوں اداروں نے اسلام آباد کو ایک جدید اور فعال کاروباری مرکز میں ڈھالنے کے لیے باہمی روابط اور اشتراک کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
آئی سی سی آئی کے صدر جناب ناصر منصور قریشی نے سی ڈی اے آفیسرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری جناب نعمت اللہ مسعود کی قیادت میں آنے والے وفد کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ شہر کی ترقی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور خوشحال کاروباری ماحول کی فراہمی کے لیے آئی سی سی آئی اور سی ڈی اے کے مابین قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی سی سی آئی 15,000 سے زائد صنعت، تجارت اور خدمات سے وابستہ ممبران کی نمائندہ تنظیم ہے، جو اسلام آباد میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
صدر قریشی نے زور دیا کہ “اسلام آباد ہم سب کا ہے، اس لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا چاہیے، اور کاروباری برادری کو متاثر کرنے والے کسی بھی فیصلے سے قبل آئی سی سی آئی سے مشاورت کو یقینی بنانا چاہیے۔”
سی ڈی اے آفیسرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری جناب نعمت اللہ مسعود نے ملک کی معاشی ترقی میں تاجر برادری کے کردار کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ ایسوسی ایشن کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں مکمل تعاون فراہم کرتی رہے گی۔
چیئرمین فاؤنڈر گروپ آئی سی سی آئی جناب طارق صادق نے صنعتی علاقوں کو درپیش بنیادی مسائل کی نشان دہی کی اور ان کے فوری حل پر زور دیا۔ سی ڈی اے کے ڈی جی سردار خان زمری نے اداروں کے مابین اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لیے باہمی اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایف پی سی سی آئی اور آئی سی سی آئی کے سابق صدر جناب عبدالرؤف عالم نے جامع اور مشاورتی فیصلوں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ شہری مسائل کے حل کے لیے آئی سی سی آئی اور مارکیٹس کی قیادت سے مشاورت ضروری ہے۔ ڈی جی ای اینڈ ایم جناب وسیم صابر نے بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے جاری کوششوں سے آگاہ کیا۔
چیمبر کے رہنماؤں، بشمول چوہدری مسعود، خالد چوہدری، نعیم اعوان، اسد عزیز، شہزاد عباسی، راجہ ذوالفقار، محمود وڑائچ اور دیگر نے صفائی، سڑکوں، اسٹریٹ لائٹس اور سیوریج نظام کی ابتر صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس ان مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوگا۔
آئی سی سی آئی کے سابق صدر جناب محمد اعجاز عباسی نے سیشن کی نظامت کی اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔ آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر عبدالرحمن صدیقی نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چیمبر آئندہ بھی شہر کی بہتری اور کاروباری ماحول کے فروغ کے لیے ایسے تعمیری اجلاسوں کا انعقاد جاری رکھے گا۔
آخر میں صدر آئی سی سی آئی نے جناب نعمت اللہ مسعود، ڈی جی ای اینڈ ایم وسیم صابر، اور سینئر وائس چیئرمین سردار خان زمری کو یادگاری شیلڈز پیش کیں۔ سی ڈی اے آفیسرز ایسوسی ایشن کے وفد میں چیئرمین ریاض خان، فنانس سیکرٹری افتاب حسین، ڈپٹی جنرل سیکرٹری اکرم راجا، آفس سیکرٹری بلال خان، ایڈمن سیکرٹری عبدالرحیم گازر، ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری اصغر امام اور پریزیڈنٹ سٹیٹ ڈائریکٹوریٹ عمران کھوکھر بھی شامل تھے۔
پروگرام کے اختتام پر چیمبر آف کامرس کی جانب سے پرتکلف ظہرانہ پیش کیا گیا، اور سی ڈی اے آفیسرز ایسوسی ایشن نے آئی سی سی آئی کے صدر و ایگزیکٹو ممبران کو جوابی دورے کی دعوت دی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ: حماس نے تمام قیدیوں کی رہائی، 5 سالہ جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کردی تجارتی تحفظ پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے، چینی وزیر خارجہ چوتھے عالمی میڈیا انوویشن فورم کا چین کے صوبہ شان دونگ کے شہر چھو فو میں انعقاد امریکہ کی جانب سے محصولات کا بےجا استعمال ترقی پذیر ممالک کے لیے سنگین چیلنج ہے، چین جدیدیت اور اصلاحات کے حوالے سے چین کے تجربے سے بہت سے ممالک مستفید ہو سکتے ہیں، صدر آذربائیجان چینی صدر کا مصنوعی ذہانت کی صحت مند اور منظم ترقی کو فروغ دینے پر زور چینی صدر کی صدارت میں موجودہ معاشی صورتحال اور معاشی امور پر اجلاسCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیمبر آف کامرس اسلام آباد کے لیے
پڑھیں:
کلچر کب تہذیب بنتا ہے
سماجی و کلچرل ارتقا ایک جامع اصطلاح ہے جو کلچرل ارتقاCultural Evolutionاور سماجی ارتقاSocial evolution کے مختلف نظریات پر مشتمل ہے۔یہ نظریات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کلچرز اور معاشرے وقت کے ساتھ کس طرح بدلتے اور ترقی کرتے ہیں۔سماجی و کلچرل ارتقا کو ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے کی ساخت اور تنظیم میں تبدیلی آتی ہے اور معاشرہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنی ابتدائی شکل سے معیار،خصوصیات اور ساخت کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے۔
ماہرینِ بشریات یعنی اینتھروپالوجسٹ اور ماہرینِ عمرانیات عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سماجی رجحانات رکھتا ہے اور اس کے بہت سے سماجی رویوں کی وجوہات جینیاتی یعنی وراثتی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے سماجی عوامل اور مختلف حالات کارفرما ہوتے ہیں۔معاشرے ایک پیچیدہ سماجی ماحول میں وجود پذیر ہوتے ہیں اور خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالتے رہتے ہیں۔اسی لیے یہ ایک لازمی حقیقت ہے کہ تمام معاشرے وقت کے ساتھ تبدیلی سے گزرتے رہتے ہیں۔
سماجی و کلچرل ارتقا کے نظریات پیش کرنے والوں میںAuguste Comte،ہربرٹ سر اور لیوس مورگن نمایاں تھے۔ان کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ زیادہ مہذب اورترقی یافتہ بنتے جاتے ہیں۔ان نظریات سے بھی بہت پہلے چودھویں صدی عیسوی کے عظیم مسلمان تاریخ دان اور مفکر ابنِ خلدون نے یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ معاشرے زندہ جانداروںLiving organizms کی مانند ہوتے ہیں۔وہ قدرتی اور آفاقی اسباب کے تحت ایک چکرCycleسے گزرتے ہیں یعنی ان کی پیدائش،نشوونما،بلوغت اور آخرکار ان کے لیے موت ناگزیر ہو جاتی ہے۔جرمن فلسفی ہیگلHegel کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک قدیم ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں۔
شاید اس وقت وہ حالتِ فطرت میں ہوتے ہیں اور پھر ترقی کرتے ہوئے صنعتی یورپ جیسے معاشرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اسی طرح ایڈم فرگوسن،جان ملر اور ایڈم اسمتھ کا موقف تھا کہ تمام معاشرے ترقی کے چار بنیادی مراحل سے گزرتے ہیں پہلا مرحلہ شکار اور خوراک جمع کرنے کا دور،دوسرا مویشی پالنے اور خانہ بدوشی کا دور،تیسرا مرحلہ زرعی دور اور چوتھا تجارت اور صنعت کا دور۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ تمام ماہرین ابنِ خلدون کے خوشہ چین نظر آتے ہیں۔
تہذیب ،سویلائزیشن کی اصطلاح بنیادی طور پر انسانی کلچر کے اس مادی اور عملی پہلو کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی،سائنس اور محنت کی تقسیم یعنیDivision of Labourکے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہو۔قدیم زمانے میں مہذب لوگوں کی اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی تھی تاکہ انھیں وحشی اور ابتدائی Primitiveسے الگ ظاہر کیا جا سکے۔آج کے دور میں مہذب معاشروں کا تقابل اکثر مقامی یا قبائلی معاشروں سے کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی بہت افسوس ناک ہے کہ بظاہر تہذیب یافتہ اقوام نے وسائل پر قبضے کے لیے بظاہر وحشیوں پر بہت مظالم ڈھائے۔تاہم آج کل اس اصطلاح کو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں تہذیب اور کلچر کو تقریباً ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔اس وسیع مفہوم کے مطابق تہذیب سے مراد کوئی بھی اہم نمایاں اور واضح طور پر منظم انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے۔
ایک اینتھروپالوجسٹ کے مطابق کلچر اس وقت تہذیب میں ڈھل جاتا ہے جب خاندان،گروہ یا سوسائٹی جسمانی،ذہنی یا مالی طور پر معذور فرد کی نگہداشت شروع کر دیتی اور اس کے لیے اسپتال اور ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔انھیں معذور ہونے کی بنا پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑ دیا جاتا۔اس نے کہا کہ کھدائیوں کے دوران اگر کسی ڈھانچے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑی ہوئی ملے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس معاشرے نے معذور افراد کی دیکھ بھال کے نظام کو عملی طور پر اپنا رکھا تھا ورنہ وہ فرد خود کسی قابل نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک اور پیاس سے مر جاتا۔
تہذیب انسانی معاشرے کی ترقی کی وہ بظاہر اعلیٰ ترین منزل ہے جہاں لوگ صرف اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ self actualizationکی طرف قدم بڑھاتے،منظم سیاسی،معاشی،سماجی،علمی،مذہبی اور کلچرل ادارے تشکیل دیتے ہیں۔تہذیب دراصل انسانی زندگی کے اس منظم اور ترقی یافتہ نظام کا نام ہے جس میں علم،فن، قانون، ریاست، عدالت، تجارت، شہروں کا بسایا جانا،نمایندہ عمارتوں کی تعمیر،روزافزوں ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سب ایک دوسرے سے مل کر ایک مستحکم معاشرہ وجود میں لاتے ہیں۔لفظ سویلائزیشن لاطینی لفظ Civisیعنی شہری سے نکلا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہذیب کا شہری زندگی،منظم حکومت اور اجتماعی اداروں سے گہرا تعلق ہے۔تہذیب کلچر کا منظم،ترقی یافتہ اور ادارہ جاتی Institutionalizedروپ ہے جس میں حکومت،قانون،عدالت،شہروں کی منصوبہ بندی،تجارت،سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہو جاتے ہیں۔
آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق Civilization rise where societies successfully respond to challenges..ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کلچر تہذیب میں نہیں ڈھلتا لیکن جب اس کے اندر یہ عناصر جیسے خانہ بدوشی کے بجائے مستقل آبادیاں قائم ہو جائیں،زراعت فوڈ سیکیورٹی کی ضامن بن جائے،منظم حکومت ،معاشی نظام ہو،سماجی ادارے بن جائیں،سائنس اور ٹیکنالوجی،فنونِ لطیفہ،مذہب، فلسفہ اور محنت کی تقسیم ہو تو کلچر، تہذیب کہلا سکتا ہے۔
تہذیبوں کے زوال کے عمومی اسباب کا جائزہ لیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ عظیم تہذیبیں جب اخلاقی انحطاط کا شکار ہوئیں،سیاسی بدعنوانی حد کو چھونے لگی،معاشی بحران نے جنم لے لیا،بیرونی حملے روکے نہ جا سکے،باہم اختلافات بہت بری صورت اختیار کر گئے،علمی و فکری جمود طاری ہوا اورماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے قابل نہ رہیں تو یہ تہذیبیں زوال آشنا ہو کر مٹ گئیں۔