Express News:
2026-07-24@02:52:52 GMT

’’پوسٹ ببرلو‘‘ سندھ

اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT

میں نے چار ماہ قبل اپنے ایک کالم میں اس بات کا ذکرکیا تھا کہ اب سندھ ان وڈیروں کے ہاتھوں سے پھسل رہا ہے۔ میری اس بات پر جن لوگوں نے طنزکے تیر برسائے، وہ بھی ریکارڈ پر ہیں۔ اس بات کی سمجھ مجھے تب بھی آرہی تھی اور اب بھی آرہی ہے مگرآج جو سندھ میں تحریک جاری ہے، وہ وکیلوں کی تحریک ہے یا پھر دہقانوں کی، مزدروں کی،کسانوں کی تحریک ہے۔

ایک تاریخ ہے کسانوں اور دہقانوں کی تحریک کی، جس کا آغاز پاکستان بننے کے بعد ہوا۔ میں اور میرا گھرانہ بھی تحریک کا حصہ تھے بلکہ اس تحریک کا محور تھے۔ یہ تحریک جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی تحریک بن کر ابھری اور پھر سترکی دہائی میں جب ذوالفقار علی بھٹو عوامی لیڈر بن کر ابھرے تو یہ تحریک ماند پڑگئی۔

سندھی صحافت کا ایک بہت بڑا نام فقیرلاشاری، کہتے تھے کہ بھٹو صاحب نے ’’روٹی کپڑا اور مکان ‘‘ کا نعرہ ہاری کمیٹی سے چرایا تھا۔ ایلس البینا اپنی کتاب ’’ ایمپائرز آف انڈس‘‘ میں لکھتی ہیں کہ پیرس کمیون سے پہلے اگرکوئی دہقانوں کی تحریک ابھری تھی تو وہ تھی، شاہ عنایت کی صوفی تحریک۔ جس میں 1710 عیسوی کے لگ بھگ دہقانوں نے مغل بادشاہ کو لگان دینے سے انکارکردیا تھا اور یہ کہا تھا کہ زمینیں دہقانوں کی ہیں، سرکار یا پھرکسی اورکی نہیں۔ جس کو سندھی میں کہتے ہیں کہ ’’جوکھیڑے سوکھائے‘‘ اور یہی نعرہ سندھی ہاری کمیٹی کا تھا۔
آج بظاہر تو یہ تحریک وکیلوں کی ہے، جو آج ببر لو بائی پاس (سکھر) پر چھ کینالوں اور سندھ میں پانی کے لیے دھرنا دیے بیٹھے ہیں مگر حقیقت میں کیا ایسا ہی ہے یا پھر ماجرا کچھ اور ہے؟ دہائیوں سے قوم پرست اس دھرتی پر سیاست کر رہے ہیں مگر یہ ایوانوں تک نہ پہنچ سکے۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی رہی کہ سندھ سے شہری مڈل کلاس لوگ ہجرت کرگئے۔ جاگیرداروں نے ان کی جگہ کو پرکیا اور جو مسلمان مڈل کلاس تھی، وہ کمزور ثابت ہوئی، جو مڈل کلاس شہروں میں ہجرت کر کے آئی، ان کا بیانیہ سندھ سے جُڑ نہ سکا اور اس کا بھر پور فائدہ وڈیروں نے ا ٹھایا یا پھر ملک میں آمریتوں کو ملا۔ سندھ میں وڈیروں کو عوام نے ووٹ پیپلز پارٹی کی وجہ سے دیا اور دیتے رہے ۔
پیپلزپارٹی، بے نظیرکی زندگی تک جمہوریت کی علمبردار تھی اور اسی طرح پی ایم ایل این بھی جب تک وہ نواز شریف کی قیادت میں تھی۔ اب یہ دونوں پارٹیاں اپنی پرانی حیثیت کھوچکی ہیں۔ عام لوگ کبھی قوم پرستوں کے ساتھ جُڑ نہ سکے۔ پھر آہستہ آہستہ جب بھٹوکا سحر تمام ہوا تو پیپلز پارٹی نے وڈیروں کا سہارا لیا۔ بے نظیرکے زمانے میں بڑی بڑی سیاسی شخصیات کو پیپلز پارٹی کے چھوٹے لیڈروں نے الیکشن میں شکست دی۔ ہم نے 2007 کی وکلاء تحریک بھی دیکھی تھی۔ یقینا عام لوگ بھی اس تحریک میں تھے مگر وکلاء کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ سندھ میں آج کینالوں کے خلاف وکلاء تحریک مختلف نوعیت کی ہے۔

یہ بات کہیں وہم وگمان میں بھی نہیں تھی کہ سندھ کے بچے، دہقان، مرو و عورت وکیلوں کی قیادت پر اتنا بھروسہ رکھتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ قوم پرستوں کی یہ پہنچ نہیں کہ وہ سندھ میں وڈیروں کے خلاف ان کو جیلوں سے آزاد کروا سکتا ہے یا پھر ان کے لیے کورٹ کچہریوں میں جا سکتا ہے، مگر وکیل ایسا کرسکتا ہے۔

وکیل پولیس سے بھی لڑسکتا تھا، ان کو کالے کوٹ پر اعتبار تھا۔ ایسا گمان ہی نہ تھا وہ دہقان جو وڈیروں کے جبر تلے دبے ہوئے تھے وہ اس طرح سے نکل آئیں گے۔ یہ لوگ جو ببرلو دھرنے میں آئے ہیں وہ سندھ کو کونے کونے سے یہاں پہنچے ہیں۔ قوم پرست لیڈران تو سات یا آٹھ لوگ ہیں مگر جو اس وقت متحرک ہیں وہ دو یا چار لوگ ہیں۔ ان قوم پرستوں کے خیالات میں بھی تضادات ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں۔ ان قوم پرستوں کو یہ پلیٹ فارم بھی وکیلوں نے مہیا کیا اور سب وہاں پہنچے۔

میں خود بھی سندھی ہوں، مگرگاؤں میرا بھی جانا نہیں ہوتا۔ سال میں ایک مرتبہ ہی شاید جانا ہوتا ہے، اپنے ماں باپ کی قبروں کی حاضری کے لیے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ’’سندھی‘‘ دنیا کی بدحال ترین قوموں میں شمار ہوتے ہیں۔ نہ ہی ان کو صحیح غذا میسر ہے، نہ پینے کا پانی، نہ تعلیمی معیار، نہ ہی صحتی ادارے اور نہ ہی اسکول۔

وہاں اب بھی بیل گاڑیاں چلتی ہیں۔80% فیصد سندھی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسرکرنے پر مجبور ہیں، ان کو نوکریاں بھی یہیں ملتی ہیں۔ شہروں میں جا کر یا تو ڈرائیور بن جاتے ہیں،گھروں میں نوکر لگ جاتے ہیں اورگاؤں جاتے ہیں تو کھیتی باڑی کر لیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے سولہ سالہ حکومت میں بری حکمرانی کی مثالیں قائم کردیں اور یہی بری حکمرانی اس تحریک اور دھرنے کا ایندھن بنی۔

آج کا سندھ وہ سندھ نہیں جو ببرلو دھرنے سے پہلے تھا۔ یہ سندھ پوسٹ ببرلو سندھ ہے اور اس سندھ میں پچھتر سال کا غم وغصہ، وڈیرا شاہی اور وفاق کا نہ چلنا، ان کی گیس اورکوئلہ اور اس کا صحیح حساب نہ ملنا ہے۔ سندھ کی زمینوں کی بندر بانٹ۔ یہ تمام مسائل قوم پرستوں نے اٹھائے اور آج جب بات ہوئی پانی کی تو پھر ان کو یہ بات سمجھ آئی کہ اب ان کا پانی بھی جا رہا ہے۔ پورے سندھ میں خشک سالی ہورہی ہے۔ انڈس ڈیلٹا کے رہواسی وہاں سے ہجرتیں کررہے ہیں۔

اس پسِ منظر میں لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ پیپلز پارٹی مصلحت پرستی کا شکار ہے، وہ لوگو ں کے مفادات کی صحیح طرح سے ترجمانی نہیں کر رہے ہیں اور لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی وڈیروں کی پارٹی ہے اور یہ وڈیروں کے مفادات کی ترجمان ہے۔ایسی ہی تبدیلیاں دوسرے صوبوں میں آئی ہیں۔ بلوچستان، سرداروں کو الوداع کہہ چکا۔ خیبر پختونخوا میں اب بھی نیشنل عوامی پارٹی ہے، واحد نمایندہ پارٹی نہیں۔ پنجاب میں مڈل کلاس سیاست چھائی ہوئی ہے اور اب سندھ بھی اسی ڈگر پر چل نکلا ہے۔

سندھ میں وکلاء کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور یہ وکلاء انھیں دہقانوں کی اولاد ہیں، یہ خوش آئند بات ہے۔ صدقِ دل سے اس بات کو قبول کرنا چاہیے، جو لوگ وڈیروں اور ان کی ترجمان پیپلز پارٹی کے چنگل سے آزاد ہو نا چاہتے ہیں وہ یہاں فیصلے ہونے دیں۔ پورے پچپن سال پیپلز پارٹی نے سندھ پر راج کیا ہے۔

اب چونکہ دنیا تبدیلی کی لپیٹ میں ہے تو وڈیروں کی اس تبدیلی میں کوئی جگہ ہی نہیں بنتی۔ اب سندھیوں کو بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے مگر کوشش یہ کرنی ہے کہ یہاں بلوچستان کی طرح علیحدگی پرست سیاست جنم نہ لے سکے۔ ہم میں بھی ایسے لوگ ہوںگے جو دوسرے ممالک کے ایجنٹ ہوںگے اور ان کی یہ کوشش ہوگی کہ یہاں تشدد کی فضاء قائم رہے اور پیپلز پارٹی اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے اقدام اٹھا سکتی ہے۔آج کی یہ تحریک صحت مند ہے۔ اب سندھ مصنوعی اندازمیں، بھٹو کے نام پر، مصنوعی قیادت کے ذریعے نہیں چل سکتا۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی قوم پرستوں دہقانوں کی وڈیروں کے کی تحریک یہ تحریک اور اس کے لیے اور یہ ہیں کہ ہیں وہ ہے اور اس بات

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام

یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔

ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت

ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ

ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن