پہلگام حملے کے بعد سرحد پر چھوٹے ہتھیاروں سے گولہ باری کا سلسلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
مظفرآباد(اوصاف نیوز)پہلگام حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحد پرگولہ باری کا سلسلہ جاری ہے ۔عالمی میڈی ارپورٹس کے مطابق ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کاسلسلہ جاری رہا ، متنازعہ علاقے پہلگام میں حملے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
بھارتی فوج نے ایل او سی کے ساتھ پاکستانی علاقے پر فائرنگ کی۔ تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ۔دوسری جانب پاکستان نے بھارت سے حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
اسلام آباد نے دریں اثناء اس حملے کے بعد نئی دہلی کے “سرحد پار دہشت گردی” کی حمایت کرنے کے الزامات کو مسترد کر تے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان کا ملک اس واقعے کی کسی بھی غیر جانبدار، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات میں حصہ لینے کیلئے تیار ہے۔
پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اسلام آبادکسی بھی غیر جانبدار تفتیش کاروں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ سچائی کا پردہ فاش ہو اور انصاف فراہم کیا جائے۔
“انہوں نے کہا کہ پاکستان امن، استحکام اور بین الاقوامی اصولوں کی پیروی کے لیے پرعزم ہے لیکن اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
رواں سال خونیں ٹریفک حادثات میں اب تک 298 شہری جاں بحق ہوئے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: حملے کے بعد
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :