امید ہے کہ بھارت اور پاکستان مذاکرات کے ذریعے موجودہ اختلافات کو حل کریں گے،چینی وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
امید ہے کہ بھارت اور پاکستان مذاکرات کے ذریعے موجودہ اختلافات کو حل کریں گے،چینی وزارت خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 28 April, 2025 سب نیوز
بیجنگ :چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے موجودہ پاک بھارت حالات پریومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ چین موجودہ کشیدگی میں کمی کے لیے مفید ثابت ہونے والے تمام اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے اور واقعے کی جلد از جلد غیر جانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔
بھارت اور پاکستان کے ہمسایے کی حیثیت سے چین کو امید ہے کہ بھارت اور پاکستان تحمل کا مظاہرہ کر تے ہوئے کشیدگی کو کم کرنے کیلئے کام کریں گے، مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے موجودہ اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کریں گے اور مشترکہ طور پر علاقائی امن و استحکام کا تحفظ کریں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچینی قوم کی عظیم نشاۃ ثانیہ کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کریں گے ، چینی صدر بھارت میں 35 سال سے مقیم پاکستانی خاتون کو ملک چھوڑنے کا حکم پہلگام واقعہ: پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور تناؤ کے درمیان امریکا کا اہم بیان سامنے آگیا چینی کوسٹ گارڈ نے تھیئَے شیئن ریف پر اترنے والے فلپائنی افراد سے قانونی طور پر نمٹا پہلگام حملے کی سازش رچنے والوں کو کڑا جواب دیں گے: مودی کا پیغام انتہا پسند ہندوؤں کا حملہ، موہالی میں کشمیری طالبہ کو ہراساں کیا کینیڈا: اسٹریٹ فیسٹیول کے دوران ڈرائیور نے ہجوم کو کچل دیا، متعدد افراد ہلاکCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بھارت اور پاکستان کریں گے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔