عاصم اظہر کا ہانیہ سے متعلق علی صفینا اور میرب علی کی وائرل ویڈیو پر ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
معروف گلوکار عاصم اظہر نے ہانیہ سے متعلق علی صفینا اور میرب علی کی وائرل ویڈیو پر ردعمل دے دیا۔
حال ہی میں اداکارہ و ماڈل میرب علی اور علی صفینہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس کی وجہ سے علی کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ ایک انٹرویو کی ویڈیو تھی جس میں اداکار و میزبان علی صفینا نے گلوکار عاصم اظہر کی منگیتر میرب علی کے سامنے ان کی سابقہ دوست ہانیہ عامر کا ذکر مزاحیہ انداز میں کیا تھا۔
علی صفینا نے میرب سے سوال کیا تھا کہ کیا عاصم آج بھی ’وے ہانیا او دلجانیا‘ گانا میرب کے لیے گاتے ہیں؟ میرب نے اس صورتحال کو بےحد خوش اسلوبی سے سنبھالا، تاہم یہ کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور صارفین نے اسے غیر ضروری قرار دیا۔
اس حوالے سے عاصم اظہر نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جب آپ اپنی ذاتی زندگی کو سوشل میڈیا پر لاتے ہیں تو تنقید یا ذاتی سوالات کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔ اگر آپ ذہنی طور پر اس کے لیے تیار نہیں، تو خود کو ایسی صورتحال میں نہیں ڈالنا چاہیے۔
عاصم نے مزید کہا کہ وہ اہلِ بیت کے ماننے والے ہیں اور ان کی تعلیمات سے سیکھا ہے کہ کم بولنا کئی برائیوں سے بچاتا ہے۔ وہ صرف ان سے کھل کر بات کرتے ہیں جن سے محبت رکھتے ہیں، باقی لوگوں سے فاصلہ رکھتے ہیں۔
تاہم عاصم نے علی صفینہ اور میرب علی کے وائرل ویڈیو پر کوئی براہ راست ردعمل دینے سے گریز کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔