بھارتی اداکار کا علاج کے لیے اپنا ہی پیشاب پینے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
بالی وڈ کے سینئر اداکار پریش راول نے عجیب و غریب انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنے گھٹنے کی چوٹ کے علاج کے لیے اپنا پیشاب پیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایک انٹرویو میں پریش روال کا کہنا تھا کہ فلم گھاتک کی شوٹنگ کے دوران ایک ایکشن سین کے دوران ان کا گھٹنا زخمی ہو گیا تھا جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا اور طبی امداد فراہم کی گئی۔ پریش روال کا کہنا تھا کہ وہ بہت ڈر گئے تھے اور انہیں لگتا تھا کہ اس چوٹ کی وجہ سے ان کا کیریئر ختم نہ ہو جائے۔
انہوں نے بتایا کہ مرحوم ایکشن ڈائریکٹر ویرو دیوگن(اداکار اجے دیوگن کے والد) اسپتال میں ان کی عیادت کے لیے آئے اور انہیں مشورہ دیا کہ اگر جلد صحت یاب ہونا ہے تو صبح خالی پیٹ اپنا پیشاب پیو، سارے فائٹرز ایسا کرتے ہیں، تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ پریش راول نے کہا کہ اگرچہ یہ مشورہ بڑا عجیب تھا لیکن انہوں نے اس پر عمل کیا اور ان کی حالت میں تیزی سے بہتری آئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پریش راول کا یہ بیان سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہا ہے، اور اس موضوع پر لوگ مختلف رائے دیتے نظر آرہے ہیں۔ کوئی اسے دیسی علاج کی طاقت تسلیم کر رہا ہے تو کوئی اسے سراسر احمقانہ اور غر سائنسی قرار دے رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔