اسحاق ڈار کا پاکستان کے پانی کے حق کے تحفظ کیلئے تمام اقدامات اٹھانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے اقدام پر غور کیا گیا۔
سندھ طاس معاہدے سے متعلق اجلاس میں وفاقی وزرائے قانون، آبی وسائل، اٹارنی جنرل، سینئر حکام اور ماہرین شریک ہوئے، اسحاق ڈار نے پاکستان کے پانی کے حق کے تحفظ کیلئے تمام اقدامات اٹھانے کا اعلان کردیا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پوری قومی طاقت کا مطلب ہمارے پاس موجود تمام صلاحیتوں کا استعمال ہے۔
نائب وزیراعظم نے بھارتی اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا اور بھارت کی پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششوں کی مذمت کی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی حرمت علاقائی استحکام کیلئے ناگزیر ہے، پاکستان کی 24 کروڑ آبادی کیلئے دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، پاکستان سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ جاری رکھے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔