اسحاق ڈار کا 8 ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ، بھارتی یکطرفہ اقدامات سے آگاہ کیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاک بھارت کشیدگی کے بعد وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی رابطہ کاری مہم جاری ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 8 ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا اور بھارت کے الزامات اور یکطرفہ اقدامات سے آگاہ کیا، انہوں نے نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں پر بھی بریفنگ دی۔
اسحاق ڈار نے برطانیہ، چین، سعودی عرب، ترکیہ، ایران، مصر، قطر اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کر کے انہیں اعتماد میں لیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔